Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 35 of 134
78۔ حضرت عمار بن یاسرص سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ انے فرمایا، جس نے میرے اصحاب میں سے کسی کو ابوبکر وعمر پر فضیلت دی، اُس نے مہاجرین وانصار پر زیادتی کی۔()
79۔ حضرت شریکص فرماتے ہیں ، جس شخص میں ذرا سی بھی نیکی ہے وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت علیص ، سیدنا ابوبکرص اور سیدنا عمر ص سے زیادہ خلافت کے مستحق تھے۔()
80۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرص اور حضرت عمرص کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر کی نشانی ہے۔()
اصدق الصادقیں، سیدُ المتقین
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام
ترجمانِ نبی، ہم زبانِ نبی
جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام

خلیفۂ سوم سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ
سیدنا ابوبکرص اور سیدنا عمرص کے بعد سب سے افضل حضرت عثمان ذوالنورین ص ہیں۔آپ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت زید بن حارثہ ثکے بعد ایمان لائے۔ آپ نے اسلام کے لیے دو بار ہجرت کی، ایک بار حبشہ کی طرف اور دوسری بار مدینہ منورہ کی طرف۔ حضرت عمرص نے آپ کا شمار اُن چھ خوش نصیب ہستیوں میں کیا جن سے نبی کریم ﷺ ظاہری وصال تک راضی رہے۔آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ نے قرآن پاک کو لغتِ قریش پر جمع کیا۔
حضرت ابن سیرین ص کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ص مناسکِ حج کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔آپ نے سرکارِ دوعالم ا سے ایک سو چھیالیس (۱۴۶) احادیث روایت کی ہیں۔آپ کی حیا اور سخاوت بہت مشہور ہے۔ آپ نے اپنے مال سے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نفع پہنچایا اور کئی بار جنت کی بشارت حاصل کی۔()
حضرت امام حسن صسے روایت ہے کہ آپ کا لقب ذُوالنورَین اس لیے ہوا کیونکہ آپ کے سوا کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو صاحبزادیاں نہیں آئیں۔()
حضرت علی صسے جب حضرت عثمان ص کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا، وہ ایسی ہستی ہیں جو ملائِ اعلیٰ میں ذوالنورین کے لقب سے مشہور ہیں۔ ()
آقا ومولیٰ ا کا ارشادِ گرامی ہے، ’’میں نے اپنی صاحبزادیوں کے نکاح عثمان سے وحیٔ الہٰی کے ذریعہ سے کیے تھے‘‘۔()
حضرت عمر صنے خلیفہ کے انتخاب کے لیے چھ جید صحابہ کرام پر مشتمل جو کمیٹی بنائی تھی اس نے حضرت عثمان ص کو خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف صفرماتے ہیں کہ میں نے تخلیہ میں حضرت عثمان ص سے پوچھا، اگر میں آپ کی بیعت نہ کروں تو آپ مجھے کس سے بیعت کرنے کا مشورہ دیں گے؟ آپ نے فرمایا، علی سے۔ پھر میں نے اسی طرح تنہائی میں حضرت علی صسے پوچھا، اگر میں آپ کی بیعت نہ کروں تو آپ کس سے بیعت کرنے کا مشورہ دیں گے؟ انہوں نے فرمایا، عثمان سے۔پھر میں نے دیگر صحابہ سے مشورہ کیا تو اکثر کی رائے حضرت عثمان ص کی طرف پائی۔()
حضرت ابی وائل صسے روایت ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف ص سے دریافت کیا، تم نے حضرت عثمان صسے کیوں بیعت کی اور حضرت علی ص سے کیوں بیعت نہ کی؟ انہوں نے جواب دیا، اس میں میرا کچھ قصور نہیں۔ میں نے پہلے حضرت علی ص ہی سے کہاتھا کہ میں آپ سے کتابُ اللہ، سنتِ رسولُ اللہ ا اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی سنت پر بیعت کرتا ہوں ۔ تو انہوں نے کہا، میں جس قدر استطاعت رکھوں گا اسی قدر، پھر میں نے حضرت عثمان صسے یہی باتیں کیں تو انہوں نے جواب دیا، بہت اچھا۔ پس میں نے ان سے بیعت کر لی۔()
اس روایت کی بنیاد پر گمان یہ ہے کہ حضرت علی صنے جب عام صحابہ کرام علیہم الرضوان کا رجحان حضرت عثمان ص کے حق میں دیکھا تو آپ نے صحابہ کرام کی مرضی کے خلاف زبردستی اُن کا خلیفہ بننا پسند نہ فرمایا اور خلافت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کر لی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
Share:
keyboard_arrow_up