Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 33 of 134
3۔ وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ ۔()
’’اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں ‘‘۔
جو ( غزوہ اُحد میں نبی کریم ﷺ کی شہادت کی جھوٹی افواہ سن کر )نہ پھرے اور اپنے دین پر ثابت رہے ، ان کو شاکرین فرمایا کیونکہ انہوں نے اپنے ثبات سے نعمتِ اسلام کا شکر ادا کیا۔ حضرت علی مرتضیٰصفرماتے تھے کہ حضرت ابو بکر صدیق صاور ان کے ساتھی جو اپنے دین پر قائم رہے وہ شاکرین ہیں۔ (جن میں حضرت عمرص اور حضرت علیصبھی شامل ہیں)حضرت علیصکا یہ بھی ارشاد ہے کہ حضرت ابو بکرص امیرالشاکرین ہیں۔ ()
4۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ الله قُلُوْبَہُمْ لِلتّٰقْوٰی لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ()
’’ بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اﷲ کے پاس ،وہ ہیں جن کا دل اﷲ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے‘‘۔
آیت لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ () (اپنی آواز نبی کریم ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو)کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابو بکر و عمر اور بعض اور صحابہ کرامث نے بہت احتیاط لازم کر لی اور خدمتِ اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے۔ ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ()
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے دل اﷲتعالیٰ نے تقوٰی کے لیے پرکھ لیے ہیں ،جو انہیں فاسق مانے وہ اس آیت کا منکر ہے۔()
فضائلِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ،احادیث میں:
59۔ حضرت انَس صسے روایت ہے کہ ایک شخص نے آقا ومولیٰا سے سوال کیا، قیامت کب آئے گی؟آپ نے فرمایا، یہ بتاؤ کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟اُس نے عرض کی، میرے پاس تو کوئی عمل نہیں سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ا سے محبت کرتا ہوں۔ارشاد فرمایا، تم اُنہی کے ساتھ ہوگے جن سے محبت رکھتے ہو۔
حضرت انس ص فرماتے ہیں، مجھے کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جس قدر خوشی یہ فرمان سن کر ہوئی کہ’’ تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو‘‘۔میں آقا ومولیٰ نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں لہٰذا مجھے امید ہے کہ میں اُن سے محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ رہوں گا اگرچہ میرے اعمال اُن جیسے نہیں۔()
60۔ حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، ایک آدمی گائے کو ہانک رہا تھا۔ جب تھک گیا تو اس پر سوار ہوگیا۔ اس نے کہا،ہمیں اس لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہمیں زمین کی کاشت کے لیے پیدا کیا گیاہے۔ لوگوں نے کہا ، سبحان اﷲ! گائے بولتی ہے۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، ’’اس بات کو میں نے مانا اور ابوبکر و عمر نے‘‘ حالانکہ وہ دونوںوہاں موجود نہ تھے۔
پھر فرمایا، ایک آدمی اپنی بکریوں میں تھا جب کہ بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اسے پکڑ لیا ۔ اس کے مالک نے وہ بکری چھڑالی۔ بھیڑیے نے اس سے کہا، یومِ سبع کو اس کی حفاظت کون کرے گا جبکہ میرے سوا کوئی چرواہا نہیں ہوگا۔ لوگوں نے کہا، سبحان اﷲ! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔فرمایا ، ’’میں نے اس بات کو مانا اور ابوبکر و عمر نے بھی‘‘۔ حالانکہ وہ وہاں موجود نہ تھے۔()
61۔ حضرت انس ص سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ ا مسجد میں تشریف لاتے تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے سوا کوئی اور سر نہ اٹھاتا۔ یہ حضور ﷺ کو دیکھ کر مسکراتے اور حضور ﷺ انہیں دیکھ کر تبسم فرماتے۔()
62۔ حضرت ابنِ عباس ص سے روایت ہے کہ لوگ اﷲ تعالیٰ سے حضرت عمرص کے وصال کے بعد ان کے لیے دعا کررہے تھے جب کہ وہ تختے پر تھے تو ایک آدمی نے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھ کر کہا، اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ مجھے امید ہے کہ وہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں سے ملادے گا کیونکہ میں نے اکثر رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، ’’میں اور ابوبکر و عمر تھے، میں نے اور ابوبکر و عمر نے کیا، میں اور ابوبکر و عمر گئے، میں اور ابو بکر و عمر اندر داخل ہوئے، میں اور ابوبکر و عمر باہر نکلے‘‘۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علیص تھے۔()
Share:
keyboard_arrow_up