Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 32 of 134
فرمایا ، تم نے رسول کریم ﷺ کی صحبت اور رضامندی کا ذکر کیا ہے تو یہ اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر فرمایا ۔ تم نے حضرت ابوبکرص کی صحبت اور رضامندی کا ذکر کیا تو یہ بھی اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے جو اس نے مجھ پر فرمایا۔ اور جو تم میری پریشانی دیکھ رہے ہو یہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔ خدا کی قسم ! اگر میرے پاس زمین بھر سونا بھی ہوتا تو میں اﷲ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ ادا کردیتا۔()
51۔ حضرت ابو سعید خُدری ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا،جس شخص نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفہ پر عموماً اور حضرت عمر پر خصوصاً فخر کیا ہے۔ جتنے انبیاء کرام مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محَدَّثْ ضرور ہوا ہے اگر میری امت کا کوئی محَدَّث ہے تو وہ عمر ہے۔صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! محدَث کون ہوتا ہے؟ فرمایا، جس کی زبان سے ملائکہ گفتگو کریں۔() اس حدیث کی اسناد درست ہیں۔
52۔ حضرت فضل بن عباسص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، میرے بعد حق عمر کے ساتھ رہے گا خواہ وہ کہیں ہوں۔ ()
53۔ حضرت ابوبکر صسے مرض الوصال میں دریافت کیا گیا، اگر آپ سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے کہ تم نے عمرص کو کیوں خلیفہ منتخب کیا تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟ فرمایا، میں عرض کروں گا کہ میں نے ان لوگوں پر ان میں سے سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا۔()
54۔ حضرت عبد اللہ بن عمرص سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا نے فرمایا، عمر اہلِ جنت کا چراغ ہیں۔()
55۔ حضرت عثمان بن مظعون ص سے روایت ہے کہ غیب جاننے والے آقاا نے حضرت عمر ص کی جانب اشارہ کر کے فرمایا، یہی وہ ہستی ہے جس کے باعث فتنہ وفساد کے دروازے بند ہیں اور یہ جب تک زندہ رہے گا اس وقت تک تم میں کوئی پھوٹ اور فتنہ وفساد نہیں ڈال سکے گا۔()
56۔ حضرت ابی بن کعبص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺکا ارشاد ہے،مجھ سے جبرئیل نے کہا ہے کہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا یعنی ان کی وفات سے اسلام کو بہت نقصان پہنچے گا۔()
57۔ حضرت حذیفہ ص فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمرص کے سوا کسی شخص سے واقف نہیں جس نے جرأت کے ساتھ راہِ خدا میں ملامت سنی ہو۔()
58۔ حضرت عمرص فرماتے ہیں کہ میرے آقا ومولیٰا نے مجھ سے (از راہِ کرم وعنایت) یہ فرمایا،’’اے میرے بھائی! ہمیں اپنی دعا میں نہ بھولنا‘‘۔()
وہ عمر جس کے اعداء پہ شیدا سَقَر
اُس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
فضائلِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ،قرآن میں:
1۔ فَاِنَّ اللّٰہَ هوَ مَوْلٰہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ()
’’بیشک اللہ اُن کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے‘‘۔
حضرت ا بن مسعود صاور حضرت ابی بن کعب صسے مروی ہے کہ صالح مومنین سے مراد حضرت ابوبکرصاور حضرت عمر صہیں۔()
حضرت ابن مسعودص اور حضرت ابو امامہص نے حضور ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عمر ، ابن عباس اور سعید بن جبیر ثسے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ابو بکرص اور حضرت عمر صکے بارے میں نازل ہوئی۔()
2۔ شَاوِرْهمْ فِی الْاَمْرِ () ’’ کاموں میں ان سے مشورہ لو‘‘۔
حضرت ابن عباس صسے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکرص وحضرت عمرص کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس آیت میں رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابوبکر و عمر سے مشورہ کیاکرو ۔ اس آیت کے نزول پر سرکاردوعالم انے حضراتِ شیخین سے فرمایا ، جب تم دونوں کسی رائے پر متفق ہو جاؤ تو میں تمہارے خلاف نہیں کرتا۔()
Share:
keyboard_arrow_up