Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 31 of 134
45۔ حضرت بُرَیدہ ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کسی غزوہ کے لیے نکلے۔ جب واپس تشریف لائے تو ایک کالی لونڈی حاضر بارگاہ ہو کر عرض گزار ہوئی، یا رسول اﷲ ﷺ ! میں نے نذر مانگی تھی کہ اگر اﷲ تعالیٰ آپ کو بخیریت واپس لوٹائے تو میں آپ کی خدمت میں دف بجا ؤں گی۔
رحمتِ عالم ا نے اس سے فرمایا ، اگر تم نے نذر مانی تھی تو بجالو، اور نہیں مانی تھی تو نہ بجاؤ۔ پس حضرت ابوبکرص آئے اور وہ بجاتی رہی۔ پھر حضرت علیص آئے اوروہ بجاتی رہی۔ پھر حضرت عثمان ص آئے اوروہ بجاتی رہی۔پھر حضرت عمرص آئے تو اس نے دف اپنے نیچے رکھی اور اس پر بیٹھ گئی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، اے عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے۔ میں بیٹھا تھا لیکن یہ بجاتی رہی۔ ابو بکر آئے اور یہ بجاتی رہی، علی آئے اور یہ بجاتی رہی۔ پھر عثمان آئے اور یہ بجاتی رہی۔ جب اے عمر! تم اندر داخل ہوئے تو اس نے دف نیچے رکھ لی ۔ ث ()
46۔ حضرت انس اور حضرت ابنِ عمر ث سے روایت ہے کہ حضرت عمرص نے فرمایا، تین باتوں میں میرے رب نے میری موافقت فرمائی۔
۱)میں عرض گزار ہوا ، یا رسول اﷲ ﷺ ! کاش ہم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالیں تو حکم نازل ہوا،’’اور ٹھہرالو مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ‘‘۔()
۲) میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ ﷺ ! ہماری عورتوں کے پاس بھلے اور برے آتے ہیں، کاش! آپ انہیں پردے کا حکم فرمائیں۔ اس پر پردے کی آیت نازل ہو گئی ۔
۳) نیزجب نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات غیرت کھا کر جمع ہو گئیں تو میں عرض گزار ہوا ، ’’اگر آپ انہیں طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ان سے بہتر بدلے میں عطا فرمائے‘‘۔ پس اسی طرح آیت نازل ہو گئی ۔()
47۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ص نے فرمایا، حضرت عمرص کو دوسرے لوگوں پر چار باتوں سے فضیلت دی گئی ہے۔
۱) بدر کے قیدیوں کے بارے میں جب آپ نے اُن کو قتل کرنے کے لیے کہا تو اﷲ تعالیٰ نے(آپ کی تائید میں) فرمایا ، ’’اگر اﷲ پہلے فیصلہ نہ کرچکا ہوتا جو تم نے کیا تو تم کو بڑا عذاب پہنچتا‘‘۔()
۲)اور پردے کے معاملے میں جب آپ نے نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے پردے کے لیے کہا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا، اے ابنِ خطاب ! آپ ہم پر بھی حکم چلاتے ہیں حالانکہ وحی ہمارے گھر میں نازل ہوتی ہے۔ تو اﷲ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا،’’اور جب تم نے کوئی چیز ان سے مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو‘‘۔()
۳)اور حضور ﷺ کی دعا کے باعث کہ’’ اے اﷲ ! عمر کے ذریعے اسلام کی مدد فرما ‘‘۔()
۴)اور حضرت ابو بکرص سے بیعت کے فیصلے کے باعث کہ سب سے پہلے اِنہوں نے بیعت کی۔()
48۔ حضرت عبداللہ بن مسعودص فرماتے ہیں کہ اگرحضرت عمرص کا علم ترازو کے ایک پلے میں اور تمام اہلِ دنیا کا علم ترازو کے دوسرے پلے میں رکھ کر تولا جائے تو حضرت عمر صکا پلہ ہی بھاری رہے گا کیونکہ علم کے دس حصوں میں سے نو حصے علم آپ کو دیا گیا ہے۔()
49۔ حضرت ابو سعید ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، میری امت سے وہ آدمی جنت میں بڑے بلند درجے والا ہے ۔ حضرت ابوسعیدص کا بیان ہے کہ خدا کی قسم، ہم اس آدمی سے حضرت عمر ہی مراد لیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے راستے پر چلے گئے یعنی وصال فرما گئے۔()
50۔ حضرت مِسوَر بن مخرمہص سے روایت ہے کہ جب حضرت عمرص کو زخمی کیا گیا اور انہوں نے تکلیف محسوس کی تو حضرت ابنِ عباس صنے تسلی دیتے ہوئے کہا ، اے امیرالمومنین ! کیا آپ پریشان ہیں حالانکہ آپ رسول اﷲ ا کی صحبت میں رہے اور اچھا ساتھ نبھایا۔ پھر جب وہ جدا ہوئے تو آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکرص کی صحبت میں رہے اور اچھا ساتھ نبھایا۔ پھر جب وہ جدا ہوئے تو آپ سے راضی تھے ۔ پھر آپ کی صحابہ کرام سے صحبت رہی اور اچھی صحبت رہی۔ اگر آپ ان سے جدا بھی ہوجائیں تو وہ آپ سے راضی ہیں۔
Share:
keyboard_arrow_up