Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 29 of 134
17۔ حضرت عمرص کا یہ فرمانا کہ یہود ایک حیران و سرگرداں قوم ہے۔ آپ کے اس قول کے مطابق آیت نازل ہوئی۔
18۔ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۳۹) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۴۰) () بھی حضرت عمرص کی تائید میں نازل ہوئی۔()
چند موافقات اور فراستِ عمر رضی اللہ عنہ:
٭آیت ’’الشیخ والشیخۃ اذا زنیا‘‘ کا منسوخ التلاوت ہونا بھی حضرت عمرص کی رائے سے موافقت رکھتا ہے۔
٭ جنگ اُحد میں جب ابو سفیان نے کہا ،کیا تم میں فلاں ہے؟ تو سیدنا عمر صنے فرمایا،’’اس کا جواب نہ دو‘‘۔ رسولِ کریم انے آپ کے اس قول سے موافقت فرمائی۔ اس واقعہ کو امام احمد صنے اپنی مُسند میں روایت کیا ہے۔
٭ ایک روز کعب احبارص نے کہا ، آسمان کا بادشاہ زمین کے بادشاہ پر افسوس کرتا ہے۔ حضرت عمر صنے یہ سن کرفرمایا، مگر اس بادشاہ پر افسوس نہیں کرتا جس نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا۔یہ سن کر کعب احبار صنے کہا، واللہ! توریت میں یہی الفاظ ہیں۔یہ سن کر حضرت عمر صسجدے میں گر گئے یعنی سجدۂ شکر بجا لائے۔()
٭صحیح مسلم میں ہے کہ صحابہ نے نماز کے لیے بلانے کے متعلق مختلف تجاویز دیں تو سیدنا عمر صنے کہا،ایک آدمی کو مقرر کر لو جو نماز کے وقت آواز دے کر لوگوں کو بلائے۔حضور ﷺ نے اس تجویز کو پسند فرمایا۔ ()
٭مؤطا امام مالک میں ہے کہ ایک بار سیدنا عمرص کو نیند سے جگانے کے لیے کسی نے الصلوٰۃ خیر من النوم کہا تو آپ نے فجر کی اذان میں ان کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا۔ ()
٭جنگِ یمامہ میں جب بہت سے حفاظ صحابہ کرام شہید ہو گئے تو حضرت عمرص نے خلیفۂ رسول ، سیدنا ابوبکرص کی خدمت میں عرض کی، اگر اسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو کہیں قرآن کی حفاظت کا مسئلہ نہ پیدا ہو، اس لیے قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کردیا جائے۔ آپ کے بار بار اصرار پر حضرت ابوبکرص اس کام کے لیے راضی ہوئے۔ یوں آپ کی فراست ودانائی کی وجہ سے قرآن کریم ایک جگہ کتاب کی صورت میں جمع کیا گیا۔()
٭اسی طرح آپ کے دورِ خلافت کے شروع تک لوگ الگ الگ تراویح پڑھتے تھے۔ آپ نے انہیں ایک امام کی اقتداء میں جماعت کی صورت میں تراویح پڑھنے کا حکم دیا۔تراویح میں قرآن کریم سنانے کی لگن میں مسلمان چھوٹے بڑے قرآن مجید حفظ کرتے ہیں اور حفاظ کرام اسے اہتمام سے یاد رکھتے ہیں۔
گویا آج قرآن کریم کا کتابی صورت میں محفوظ ہونا،حفاظ کرام کی کثرت اور قرآن کریم کا صحیح یاد رکھنا یہ حضرت عمرص ہی کی فراست کے صدقے میں ہے جنہوں نے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کرنے کی اہمیت اُجاگر کی اورتراویح کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا۔
فضائلِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ احادیث میں:
29۔ حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: بے شک تم سے پہلی امتوں میں مُحَدّث (صاحبِ الہام) ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں بھی کوئی مُحَدَّث ہے تو عمر ہے۔()
30۔ انہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، تم سے پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام فرمایا جاتا تھا حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔اگر ان میں سے میری امت میں بھی کوئی ہے تو وہ عمر ہے۔()
31۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ص سے روایت ہے کہ حضرت عمرص نے حضور ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی اور آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں گفتگو کر رہی تھیں اور اونچی آواز سے کچھ مطالبہ کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمرص نے اجازت مانگی تو وہ پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ حضرت عمرص اندر داخل ہوئے اور رسول اﷲا ہنس رہے تھے ۔ عرض کی، یا رسول اﷲ ﷺ ! آپ کو اﷲ تعالیٰ ہمیشہ مسکراتا رکھے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس تھیں اور جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ آپ نے کہا ، اے اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو مگر اﷲ کے رسول سے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا، ہاں کیونکہ آپ سخت مزاج اور سخت گیر ہیں۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ، خوب اے ابنِ خطاب ! قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، شیطان جب بھی تم سے کسی راستے میں ملتا ہے تو اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up