11۔ جس وقت رسول اکرم انے جنگ بدر کے سلسلہ میں صحابہ کرام سے باہر نکل کر لڑنے کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو اس وقت حضرت عمر ص نے نکلنے ہی کا مشورہ دیا اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔: كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ۪-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ(۵) ’’جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے (لڑنے کے لئے)تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا‘‘۔()
12۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پرجب منافقوں نے بہتان لگایا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر صسے مشورہ فرمایا۔ آپ نے عرض کی ، میرے آقا! آپ کا اُن سے نکاح کس نے کیاتھا؟حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ نے ! اس پر آپ نے عرض کی ، کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے رب نے آپ سے اُن کے عیب کوچھپایا ہو گا، بخدا یہ عائشہرضی اللہ عنہا پر عظیم بہتان ہے۔ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ(۱۶) ۔ اسی طرح آیت نازل ہوئی۔ ()
13۔ ابتدائے اسلام میں رمضان شریف کی رات میں بھی بیوی سے قربت منع تھی ۔ حضرت عمر ص نے اس کے بارے میں کچھ عرض کیا۔ اس کے بعد شب میں مجامعت کو جائز قرار دے دیا گیااور آیت نازل ہوئی: اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ- ’’روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا‘‘۔ ()
14۔ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق ص سے کہا ، جبرئیل فرشتہ جس کا ذکر تمہارے نبی کرتے ہیں وہ ہمارا دشمن ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸)
’’جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا ،تو اللہ دشمن ہے کافروں کا‘‘۔ بالکل اِنہی الفاظ میں یہ آیت نازل ہوئی۔()
15۔ دو شخص لڑائی کے بعد انصاف کے لیے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے ۔حضور ﷺ نے ان کا فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف یہ فیصلہ ہوا، وہ منافق تھا۔ اس نے کہا کہ چلو حضرت عمرص کے پاس چلیں اور ان سے فیصلہ کرائیں۔ چنانچہ یہ دونوں پہنچے اور جس شخص کے موافق حضور نے فیصلہ کیا تھا اس نے حضرت عمر صسے کہا ، حضور نے تو ہمارا فیصلہ اس طرح فرمایا تھا لیکن
یہ میرا ساتھی نہیں مانا اورآپ کے پاس فیصلہ کے لئے لے آیا ۔ آپ نے فرمایا، ذرا ٹھہرو میں آتا ہوں۔ آپ اندر سے تلوار نکال لائے اور اس شخص کو جس نے حضور کا فیصلہ نہیں مانا تھا، قتل کر دیا۔ دوسرا شخص بھاگا ہوا رسولُ اللہ ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، مجھے عمرسے یہ امید نہیں کہ وہ کسی مومن کے قتل پر اس طرح جرأت کرے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حضرت عمرص اس منافق کے خون سے بری رہے۔
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵)
ترجمہ:تواے محبوب ! تمہارے رب کی قسم! وہ مسلمان نہ ہونگے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو،اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں‘‘۔ ()
16۔ حضرت عمرص ایک روز سو رہے تھے کہ آپ کا ایک غلام بغیر اجازت لیے اندر چلا آیا۔ اس وقت آپ نے دعا فرمائی ، الٰہی! بغیر اجازت گھروں میں داخل ہونا حرام فرما دے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا ’’ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو ‘‘۔ ()
Page 28 of 134

