Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 27 of 134
’’ اگر اللہ ایک بات پہلے لکھ نہ چکا ہوتاتو اے مسلمانو! تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا،اس میں تم پر بڑا عذاب آتا‘‘۔ ()
4۔ نبی کریم ﷺ کا اپنی کنیز حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا بعض ازواجِ مطہرات کو ناگوار لگا تو حضرت عمرص نے ان سے فرمایا،
عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ ’’ اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ اُن کا رب اُنہیں تم سے بہتر بیویاں بدل دے‘‘۔() بالکل انہی الفاظ کے ساتھ وحی نازل ہوگئی۔
5۔ حرمت سے قبل مدینہ طیبہ میں شراب اور جوئے کاعام رواج تھا۔ حضرت عمرص نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، ہمیں شراب اور جوئے کے متعلق ہدایت دیجیے کیونکہ یہ مال اور عقل دونوں ضائع کرتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ ()’’تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے‘‘۔
6۔ ایک بار ایک شخص نے شراب کے نشہ میں نماز پڑھائی تو قرآن غلط پڑھا۔ اس پر حضرت عمر صنے پھر وہی عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى ۔()
’’اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ ‘‘۔
7۔ اسی سلسلے میں حضرت عمرص نے بار بار دعا کی ، الٰہی! شراب اور جوئے کے متعلق ہمارے لئے واضح حکم نازل فرما۔ یہاں تک کہ شراب اور جوئے کے حرام ہونے پریہ آیت نازل ہوگئی۔
اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ
’’بیشک شراب اور جؤا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ‘‘۔()
8۔ حضرت انس ص سے روایت ہے کہ جب آیت وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ(۱۲) (بیشک ہم نے آدمی کو چُنی ہوئی مٹی سے بنایا)نازل ہوئی۔ ()تو اِسے سن کرحضرت عمرص نے بے ساختہ کہا، فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴) () ’’تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا‘‘۔ اس کے بعد اِنہی لفظوں سے یہ آیت نازل ہوگئی۔ ()
9۔ جب منافق عبداللہ ابن اُبی مرا تو اُس کے لوگوں نے رسو ل اللہا سے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے درخواست کی۔اس پر حضرت عمرص نے عرض کی،یا رسول اللہ ﷺ ! عبداللہ ابن اُبی توآپ کا سخت دشمن اور منافق تھا ،آپ اُس کا جنازہ پڑھیں گے؟ رحمتِ عالم انے تبلیغ دین کی حکمت کے پیشِ نظر اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ یہ آیت نازل ہوگئی،
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا ۔ ’’اور جب ان (منافقوں) میں سے کوئی مرے تو اس پر نماز نہ پڑھیے‘‘۔()
یہ خیال رہے کہ حضور اکرم ﷺ کا یہ فعل صحیح اور کئی حکمتوں پر مبنی تھا جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نماز کی وجہ سے اس منافق کی قوم کے ایک ہزار افراد اسلام لے آئے۔اگر آپ کا یہ فعل مبارک رب تعالیٰ کو پسند نہ ہوتا تو وہ وحی کے ذریعے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرما دیتا۔ جبکہ حضرت عمرص کی رائے کا صحیح ہونا عام منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ہے۔
10۔ اسی نماز جنازہ کے حوالے سے حضرت عمرص نے عرض کی تو اس پر سورۃ المنافقون کی یہ آیت نازل ہوئی۔ () سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْؕ- ’’ان منافقوں کے لیے استغفار کرنا نہ کرنا برابر ہے‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up