جب کسی کو عامل(گورنر) بناتے تو اس کے اثاثوں کی فہرست لکھ لیا کرتے نیز اسے عوام کی فلاح کے لیے نصیحتیں فرماتے، اورشکایت ملنے پر عامل کو بھی سزا دیتے۔
آپ کے دورِ خلافت میں بے شمار فتوحات ہوئیں۔ دمشق، بصرہ،اردن، مدائن، حلب، انطاکیہ، بیت المقدس،نیشاپور،مصر،اسکندریہ،آذربائیجان، طرابلس، اصفہان، مکران وغیرہ متعدد علاقے آپ ہی کے دور میں اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔
۲۶ ذی الحجہ ۲۳ھ کو جب آپ نماز فجر پڑھانے لگے تو ایک مجوسی ابولولو نے آپ کو دو دھارے خنجر سے حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔آپ نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی بنا دی جو چھ اکابر صحابہ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد ، حضرت طلحہ اورحضرت زبیر ث پر مشتمل تھی کہ یہ باہم مشاورت سے ان میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں۔اسی دن آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔آپ کی خواہش پر اُمُ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے آپ نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق صکے پہلو میں دفن کیے گئے۔ ()
فضائلِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ،قرآن میں:
حضرت ابن عباسص سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرص اسلام لائے تو مشرکین نے کہا ، آج ہماری طاقت آدھی ہو گئی ۔ اس وقت حضرت عمر ص کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ()
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴) ()
’’اے غیب کی خبریں بتانے والے ! اﷲ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے‘‘۔
آپ کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ کسی معاملے میں آپ جو مشورہ دیتے یا رائے پیش کرتے ، قرآن کریم آپ کی رائے کے موافق نازل ہوتا۔
حضرت علی شیرِ خدا کرم اﷲوجہہ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم میں حضرت عمر صکی آراء موجود ہیں جن کی وحیٔ الہٰی نے تائید فرمائی ہے۔
حضرت ابنِ عمرص سے مروی ہے کہ اگر بعض امور میں لوگوں کی رائے کچھ اور ہوتی اور حضرت عمر صکی کچھ اور، تو قرآن مجید حضرت عمر صکی رائے کے موافق نازل ہوتا تھا۔ ()
حضرت ابنِ عمرص سے روایت ہے کہ حضرت عمرص نے فرمایا، ’’میرے رب نے تین امور میں میری موافقت فرمائی۔ مقامِ ابراہیم پر نماز کے متعلق، پردے کے بارے میں اور بدر کے قیدیوں کے معاملے میں‘‘۔ ()
محدثین فرماتے ہیں کہ ان تین امور میں حصر کی وجہ ان کی شہرت ہے ورنہ موافقت کی تعداداس سے زائد ہے۔حضرت عمر ص کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے رب نے مجھ سے اکیس (۲۱)باتوں میں موافقت فرمائی ہے ۔ جن کا تذکرہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الخلفاء میں کیا ہے۔ان امورکی تفصیل حسب ذیل ہے:
1۔ حجاب کے احکام سے پہلے حضرت عمرص نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! ازواجِ مطہرات کے سامنے طرح طرح کے لوگ آتے ہیں اس لیے آپ انہیں پردے کا حکم دیجیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہو گئی: وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ- ۔’’اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو ‘‘۔ ()
2۔ ایک بار آپ نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! ہم مقامِ ابراہیم کو مصلیٰ نہ بنالیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوگئی: وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ- ’’اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ‘‘۔ ()
3۔ بدر کے قیدیوں کے متعلق بعض نے فدیہ کی رائے دی جبکہ حضرت عمرص نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا ۔ اس پر آپ کی موافقت میں یہ آیت نازل ہوئی۔
لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۶۸)
Page 26 of 134

