Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 25 of 134
حضرت عمرص فرماتے ہیں کہ جب میں نے اسلام قبول کیا تو دارِ اَرقم میں موجود مسلمانوں نے اس زور سے تکبیر بلند کی کہ اسے تمام اہلِ مکہ نے سنا۔ میں نے دریافت کیا، یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا، کیوں نہیں ، یقیناً ہم حق پر ہیں۔ میں نے عرض کی،پھر ہم پوشیدہ کیوں رہیں۔چنانچہ وہاں سے تمام مسلمان دو صفیں بنا کر نکلے۔ ایک صف میں حضرت حمزہ صتھے اور ایک میں ، مَیں تھا۔
جب ہم اس طرح مسجد حرام میں داخل ہوئے تو کفار کو سخت ملال ہوا۔ اس دن سے رسول کریم ﷺنے مجھے فاروق کا لقب عطا فرمایا کیونکہ اسلام ظاہر ہو گیا اور حق وباطل میں فرق پیدا ہو گیا۔
حضرت علی صکا ارشاد ہے، حضرت عمر صکے سوا کوئی شخص ایسا نہیں جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو۔جس وقت حضرت عمرص ہجرت کے ارادے سے نکلے، آپ نے تلوار حمائل کی، کمان شانے پر لٹکائی اور ہاتھ میں تیر پکڑ کر خانۂ کعبہ کا طواف کیا۔ پھر وہاں موجود کفارِ قریش میں سے ایک ایک فرد سے الگ الگ فرمایا،
’’ تمہاری صورتیں بگڑیں، تمہارا ناس ہو جائے! ہے کوئی تم میں جو اپنی ماں کو بیٹے سے محروم، اپنے بیٹے کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو! وہ آئے اور جنگل کے اس طرف آکر مجھ سے مقابلہ کرے۔میں اس شہر سے ہجرت کر رہا ہوں‘‘۔کفار کو آپ کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔
غیب جاننے والے آقا ومولیٰ اکا ارشاد ہے،اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہی ہوتے۔آپ سے پانچ سو اُنتالیس (۵۳۹) احادیث مروی ہیں۔ آپ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو حضور ﷺ کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔
سیدنا عمرص تمام غزوات میں آقا ومولیٰ کے ساتھ رہے اور غزوۂ اُحد میں آپ نے ثابت قدمی دکھائی۔مصر کی فتح کے بعد وہاں کے گورنر عمرو بن عاص صنے مصریوں کو ان کے رواج کے مطابق ایک کنواری لڑکی دریائے نیل کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت نہ دی تو دریائے نیل خشک ہو گیا۔اس پر گورنر نے آپ کی خدمت میں سب ماجرا لکھ بھیجا۔ آپ نے ایک خط لکھ کر ان سے فرمایا، اس خط کو دریا میں ڈال دو۔
خط میں لکھا تھا،’’ اللہ کے بندے امیرُ المومنین عمر کی جانب سے دریائے نیل کے نام! معلوم ہو کہ اگر تو خودبخود جاری ہوتا ہے تو مت جاری ہو، اور اگر تجھے اللہ تبارک وتعالیٰ جاری فرماتا ہے تو میں اللہ واحد وقہار ہی سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے جاری کر دے‘‘۔جب یہ خط دریا میں ڈالا گیا تو دریا ایسا جاری ہوا کہ معمول سے سولہ گز پانی زیادہ چڑھ گیا اور وہ پھر کبھی خشک نہ ہوا۔
حضرت عمرص نے ایک لشکر ساریہص نامی شخص کی سربراہی میں جنگ کے لیے نہاوند بھیجا۔کچھ دن بعد جمعہ کے خطبہ میں آپ نے تین بار فرمایا، ’’اے ساریہ! پہاڑ کی طرف‘‘۔ جب لشکر کا قاصد آیا تو اس نے بتایا کہ ہمیں شکست ہونے کو تھی کہ ہم نے یہ آواز سنی، ’’اے ساریہ ! پہاڑ کی طرف‘‘۔ چنانچہ ہم پہاڑ کی طرف ہو گئے ۔پس جنگ کا پانسہ پلٹ گیااور ہمیں فتح ہوئی۔()
آپ ہی نے سب سے اول ہجری تاریخ وسال جاری کیا اور حکومتی نظم ونسق کے لیے دفاتر و انتظامی شعبے قائم فرمائے۔آپ نے مساجد میں روشنی کا مناسب انتظام کیا۔ سیدنا علی صنے ماہِ رمضان میں ایک مسجد میں قندیل روشن دیکھی تو فرمایا، اللہ تعالیٰ عمرص کی قبر کو روشن فرمائے کہ انہوں نے ہماری مسجدوں کو روشن کر دیا۔
آپ اکثر صوف کا لباس پہنتے جس میں چمڑے کے پیوند لگے ہوتے۔اسی لباس میں دُرّہ لیے ہوئے بازار تشریف لے جاتے اور اہلِ بازار کو ادب وتنبیہہ فرماتے۔ سادہ غذا کھاتے، عوام کے حالات جاننے کے لیے راتوں کو گشت کرتے۔
Share:
keyboard_arrow_up