Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 24 of 134
اُن کا دن وہ دن ہے کہ جب رسول اﷲ ﷺ نے وفات پائی تو اس وقت بعض اہلِ عرب مرتد ہو گئے اور کہا کہ ہم زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے تو انہوں نے فرمایا ، اگر کوئی اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی رسی بھی روکے گا تو میں اس کے ساتھ جہاد کروں گا۔ میں عرض گزار ہوا کہ اے خلیفۂ رسول ا! لوگوں سے الفت کیجیے اور ان سے نرمی کا سلوک فرمائیے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا،
تم جاہلیت میں بہادر تھے تو کیا اسلام لا کر بزدل ہو گئے ہو؟بے شک وحی منقطع ہو گئی، دین مکمل ہو گیا ، کیا یہ دین میرے جیتے جی بدل جائے گا؟()
25۔ حضرت عمر فاروق ص کا ارشاد ہے کہ اگر تمام اہلِ زمین کا ایمان ایک پلّہ میں اور سیدنا ابوبکرص کا ایمان دوسرے پلّہ میں رکھ کروزن کیا جائے تو سیدنا ابوبکرص کے ایمان کا پلّہ بھاری رہے گا۔()
26۔ حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیرث سے مروی ہے کہ جب آیت وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ اَنِ اقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ () (ترجمہ:اوراگر ہم اُن پر فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر دو)نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صنے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! اگر آپ مجھے حکم دیتے کہ میں خودکو قتل کر لوں تو میں خود کو ضرور قتل کر دیتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، تم نے سچ کہا۔ ()
27۔ حضرت ابوسعید خُدری صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو اس کا اختیار دیاکہ وہ دنیا کی نعمتیں پسند کر لے یا آخرت کی نعمتیں جو اللہ کے پاس ہیں تو اُس نے آخرت کی نعمتیں پسند کر لیں ۔ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکرص رونے لگے اور عرض کی، یارسول اللہ ﷺ !کاش ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں۔ ہمیں تعجب ہوا کہ حضور ﷺ کسی شخص کا ذکر فرمارہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں، آپ پر ہمارے ماں باپ قربان ہو جائیں۔ بعد میں ہمیں علم ہوا کہ وہ صاحبِ اختیار بندے خود حضور ﷺ ہی تھے۔ پس حضرت ابوبکرص ہم سب سے زیادہ علم والے تھے۔ ()
28۔ حضرت علی صنے لوگوں سے پوچھا ، یہ بتاؤ کہ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا، آپ۔سیدنا علیص نے فرمایا، نہیں !سب سے زیادہ بہادر حضرت ابوبکرص ہیں۔سنو! جنگِ بدر میں ہم نے رسول کریم ﷺ کے لیے ایک سائبان بنایا تھا۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس سائبان کے نیچے حضور کے ساتھ کون رہے گا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک آقاومولیٰا پر حملہ کر دے۔ خدا کی قسم! ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا تھا کہ سیدنا ابوبکرص ہاتھ میں برہنہ تلوار لیے ہوئے حضور ﷺ کے پاس کھڑے ہوگئے اور پھر کسی مشرک کو آپ کے پاس آنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ اگر کوئی ناپاک ارادے سے قریب بھی آیا تو آپ فوراً اس پر ٹوٹ پڑے ۔ اس لیے آپ ہی سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ()
یعنی اُس افضل الخلق بعد الرُسُل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام


خلیفۂ دوم،سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
انبیا ء کرام علیہم السلام کے بعد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ص تمام لوگوں سے افضل ہیں اور ان کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق صسب سے افضل ہیں۔
حضرت عمر بن خطاب صاعلانِ نبوت کے چھٹے سال اسلام لائے۔ آپ کے قبولِ اسلام کے لیے نبی کریم ﷺ نے اس طرح دعا فرمائی، ’’اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو غلبہ عطا فرما‘‘۔اس حدیث میں آقا ومولیٰ اکا صرف آ پ ہی کا نام لے کر دعا فرما نا مذکور ہے اور یہ آپ کے لیے بڑے شرف کی بات ہے۔
آپ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام لانے والے مَردوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ص کا قول ہے کہ’’ جب سے عمرص اسلام لائے، یہ دین روزبروز ترقی کرتا چلا گیا‘‘۔
Share:
keyboard_arrow_up