15۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر ص رسول اﷲ ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہوئے تو آپ نے فرمایا ،تمہیں اﷲ تعالیٰ نے آگ سے آزاد کردیا ہے۔ اس دن سے ان کا نام عتیق مشہور ہو گیا۔()
16۔ حضرت ابنِ عمر صسے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا،میں وہ ہوں کہ زمین سب سے پہلے میرے اوپر سے شق ہو گی ، پھر ابوبکر سے، پھر عمر سے، پھر بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ پھر میں اہلِ مکہ کا انتظار کروں گا ، یہاں تک کہ حرمین کے درمیان حشر کیا جائے گا۔()
17۔ حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ حضورِاکرم ا نے فرمایا،میرے پاس جبریل آئے تو میرا ہاتھ پکڑا تاکہ مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھائیں جس سے میری امت داخل ہوگی۔ حضرت ابوبکرص نے عرض کی، یا رسول اﷲ ﷺ ! میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا ، تاکہ اس دروازے کو دیکھتا۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، اے ابوبکر! تم میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگے۔()
18۔حضرت ابو الدرداء صسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نورِ مجسم انے فرمایا، انبیاء کے علاوہ سورج کبھی کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو۔()
19 ۔ حضرت سلیمان بن یسار صسے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، اچھے خصائل تین سو ساٹھ ہیں۔ سیدنا ابوبکرص نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! ان میں سے مجھ میں کوئی خصلت موجود ہے؟ فرمایا، اے ابوبکر ! مبارک ہو۔ تم میں وہ سب اچھی خصلتیں موجود ہیں۔()
20۔ حضرت انس صسے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ا نے فرمایا، میری امت پر واجب ہے کہ وہ ابوبکر کا شکریہ ادا کرے اور ان سے محبت کرتی رہے۔ ()
21۔ حضرت عباسص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی اُس نے پہلے انکار کیا سوائے ابوبکر کے کہ انہوں نے میرے دعوتِ اسلام دینے پر فوراً ہی اسلام قبول کر لیا اور پھر اس پر ثابت قدم رہے۔()
22۔ حضرت معاذ بن جبلص سے روایت ہے کہ سیدِ عالم ا نے ایک مسئلہ میں میری رائے دریافت فرمائی تو میں نے عرض کی، میری رائے وہی ہے جو ابوبکر کی رائے ہے۔ اس پر آقا کریم انے فرمایا، اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ ابوبکر غلطی کریں۔()
23۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ میں نے آقا ومولیٰ ا سے عرض کی، آپ نے اپنی علالت کے ایام میں حضرت ابوبکرص کو امام بنایا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا، نہیں! میں نے نہیں بنایا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے بنایا تھا(یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں امام بنایا تھا)۔()
24۔ حضرت عمر صکے پاس حضرت ابو بکرص کا ذکر ہوا تووہ روپڑے اور فرمایا، میں چاہتا ہوں کہ میرے سارے اعمال اُن کے ایک دن کے اعمال جیسے یا اُن کی ایک رات کے اعمال جیسے ہوتے۔ پس رات تو وہ رات ہے جب وہ رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ غار کی طرف چلے۔ جب غار تک پہنچے تو عرض گزار ہوئے، خدا کی قسم! آپ اس میں داخل نہیں ہوںگے جب تک میں اس میں داخل نہ ہو جاؤںکیونکہ اگر اس میں کوئی چیز ہے تو اس کی تکلیف آپ کی جگہ مجھے پہنچے۔ پھر وہ داخل ہوئے اور غار کو صاف کیا۔ اس کی ایک جانب سوراخ تھے تو اپنی ازار کو پھاڑ کر انہیں بند کیا۔ دو سوراخ باقی رہ گئے تو انہیں اپنی ایڑیوں سے روک لیا۔ پھر رسول اﷲ ﷺ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے کہ تشریف لے آئیے۔
رسول اﷲا اندر داخل ہوئے اور ان کی گود میں سرِ مبارک رکھ کر سو گئے۔پس ایک سوراخ میں سے حضرت ابوبکر صکے پیر میں ڈنگ مارا گیا تو انہوں نے اس ڈر سے حرکت نہ کی کہ آقا ومولیٰا بیدار ہوجائیں گے لیکن ان کے آنسو رسول اﷲ ﷺ کے نورانی چہرے پر گر پڑے۔ فرمایا کہ ابو بکر ! کیا بات ہے؟ عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے ڈنگ مارا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اﷲ ﷺ نے لعابِ دہن لگا دیا تو ان کی تکلیف جاتی رہی۔ پھر اس زہرنے عود کیا اور وہی ان کی وفات کا سبب بنا۔
Page 23 of 134

