Deeni Taleem

Total Pages: 48

Page 9 of 48
جواب : قرآن کریم میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کئی میل دور سے چیونٹی کی بات سن لی جب اس نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ اپنے گھروں میں چلی جاؤ ، کہیں تمہیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں کچل نہ ڈالیں،تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس کی بات سن کر مسکرادیے۔ () حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرش سے عرش تک ساری کائنات دیکھ لی۔()
سوال نمبر:28۔ انبیاء کرام کی قدرت و طاقت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی، قرآن سے دلیل دیجیے؟
جواب : حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ، ’’ میں تمہارے لیے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہو جاتی ہے اﷲ کے حکم سے، اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے، کو اور میں مردے جِلاتا ہوں اﷲ کے حکم سے ، اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرکے رکھتے ہو‘‘۔()
سوال نمبر:29۔ حیاتِ انبیاء کرام کے متعلق اہلسنت کا عقیدہ بیان کیجیے؟
جواب : انبیا ء کرام اپنی اپنی قبروں میں اسی طرح حقیقی طور پر زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے۔ وہ کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں آتے جاتے ہیں اور تصرف فرماتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان پر ایک آن کے لیے موت طاری ہوئی اور پھر وہ زندہ کردیے گئے۔
سوال نمبر:30۔ عقیدہ حیاتِ انبیاء پر قرآن سے دلیل دیجیے۔
جواب :’’ اور جو اﷲ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور روزی پاتے ہیں‘‘()اس بارے میں کسی کو اختلاف نہیں کہ انبیاء کرام تمام لوگوں سے افضل ہیں۔پس جب شہید زندہ ہیں تو انبیاء کرام یقیناً زندہ ہیں۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں، تمام انبیاء کرام نبوت کے ساتھ وصفِ شہادت کے بھی جامع ہیں۔()
سوال نمبر:31۔ مخلوق میں سب سے افضل لوگ کون ہیں اور سب سے افضل ہستی کون ہے؟
جواب : تمام مخلوق میں انبیاء کرام علیہم السلام افضل ہیں اور سارے انبیاء و رُسُل میں ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمدﷺ سب سے افضل ہیں ۔
سوال نمبر:32۔ حضور ﷺ نے ’’ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ ‘‘ کن لوگوں سے فرمایا تھا؟
جواب : آپ نے یہ بات ان کافروں سے فرمائی تھی جو کہتے تھے کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں اُس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اور ہمارے کانوں میں روئی ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے۔()
سوال نمبر:33۔ حضور ﷺ نے اَیُّکُمْ مِثْلِیْ کن لوگوں سے فرمایا تھا؟
جواب : حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا تھا، اَیُّکُمْ مِثْلِیْ۔ ’’ تم میں کون میری مثل ہے؟ بیشک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے‘‘۔()
سوال نمبر:34۔ اﷲتعالیٰ نے حضور ﷺ کا نور کب تخلیق فرمایا؟ حدیث بتائیں۔
جواب :حضور ﷺ نے فرمایا:اﷲتعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے قبل تمہارے نبی کے نور کو اپنے نور کے فیض سے پیدا فرمایا۔ ()
سوال نمبر:35۔ حضور ﷺ منصبِ نبوت پر کب فائز ہوئے؟ حدیث شریف بیان کریں۔
جواب : حضور ﷺ نے فرمایا: ’’میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے‘‘۔ ()
سوال نمبر:36۔ حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر کا حکم قرآن کریم کی کس آیت میں ہے؟
جواب : ’’ اے لوگو ! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اﷲ کی پاکی بولو‘‘ ۔()
سوال نمبر:37۔ اس آیت کریمہ سے کیا عقیدہ ثابت ہوتا ہے؟
جواب : اس آیت میں سب میں پہلے ایمان کا ذکر ہے پھر حبیب خدا ﷺ کی تعظیم وتوقیر کا اور پھر عبادات کا،معلوم ہواکہ ایمان کے بغیر تعظیم کا فائدہ نہیں،اور جب تک نبی کریم ﷺ کی سچی تعظیم نہ ہو ، ساری عبادات بیکار ہیں۔
Share:
keyboard_arrow_up