سوال نمبر:17۔ استعانت مجازی کی وضاحت کریں۔
جواب: استعانت مجازی یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اﷲتعالیٰ کی مدد کا مظہر، حصولِ فیض کا ذریعہ اور قضائے حاجات کا وسیلہ جان کر اس سے مدد مانگی جائے اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
سوال نمبر:18۔محبوبانِ خدا سے مدد مانگنا جائز ہے۔ قرآن سے دلائل دیجیے۔
جواب: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کو مددگار بنانے کی دعا کی جو قبول ہوئی۔() حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں سے مدد مانگی۔() نیک کاموں میں مسلمانوں کو مددگار بننے کا حکم دیا گیا۔() ایمان والوں کو صبر اور نماز سے مدد مانگنے کاحکم دیا گیا۔()
سوال نمبر:19۔ صالحین اور فرشتوں کے مددگار ہونے پر آیت بتائیے؟
جواب:فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(۴)بیشک اﷲتعالیٰ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں۔()
سوال نمبر:20۔اﷲتعالیٰ اور رسول ﷺ کے مدد گار ہونے پر آیت بتائیے؟
جواب: ’’ بیشک تمہارے مددگار تو صرف اﷲتعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اﷲتعالیٰ کے حضور جھکے ہوئے ہیں ‘‘۔()
سوال نمبر:21۔ کیا عید میلاد النبی ﷺ اور اولیائے کرام کا عرس منانا شرک ہے؟
جواب: ہرگز نہیں کیونکہ عید میلاد حضور ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں منائی جاتی ہے جبکہ رب تعالیٰ پیدا ہونے سے پاک ہے۔ اسی طرح بزرگانِ دین کے وصال کے دن کو عرس منایا جاتا ہے جبکہ رب تعالیٰ فوت ہونے سے پاک ہے۔ گویا عیدِمیلاد اور عرس منانے سے شرک کی نفی ہوتی ہے۔ اسے شرک کہنا جہالت و حماقت ہے۔
سوال نمبر:22۔ نبی کسے کہتے ہیں؟
جواب: نبی اُس اعلیٰ و ارفع شان والے بشر کو کہتے ہیں جس پر اﷲتعالیٰ نے وحی نازل کی ہو اور اس کی تائید معجزات سے فرمائی ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کا محبوب و مقرب بندہ ہوتا ہے۔
سوال نمبر:23۔ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے، دلیل دیجیے؟
جواب: ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے البتہ نبوت کا اعلان وہ اﷲتعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے چند یوم کی عمر میں ارشاد فرمایا، ’’ میں اﷲ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ‘‘۔ ()
سوال نمبر:24۔ ’’عقیدۂ ”عصمتِ انبیاء ‘‘ سے کیا مراد ہے؟
جواب: تمام انبیاء کرام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں۔عصمتِ انبیاء کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء کرام کے لیے اﷲتعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ ہے اس لیے ان سے گناہ ہونا شرعاً ناممکن ہے ۔
سوال نمبر:25۔ انبیائے کرام برکتوں والے ہوتے ہیں، قرآن سے دلیل دیجئے؟
جواب: انبیائے کرام علیہم السلام برکت و رحمت والے ہوتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد ہے، ’’ اور اس نے (یعنی رب تعالیٰ نے) مجھے بابرکت کیا، میں کہیں بھی ہوں‘‘۔ ()حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کے تبرکات والے صندوق کی برکت سے بنی اسرائیل کو کافروں پر فتح ملتی اور ان کی حاجتیں پوری ہوتیں۔()
سوال نمبر:26۔انبیاء کرام کو اپنی مثل بشر سمجھنا قرآن کریم نے کن لوگوں کا طریقہ بتایا؟
جواب : انبیاء کرام کو اپنی مثل بشر سمجھنا گمراہی ہے۔ قرآن حکیم نے کافروں کا طریقہ بیان کیا ہے کہ وہ نبیوں کو محض اپنی ہی مثل بشر کہتے تھے۔()
سوال نمبر:27۔ انبیاء کرام کی سماعت و بصارت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی، قرآن سے دلیل دیجیے؟
Page 8 of 48

