سوال نمبر:9۔ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے مگر کوئی ’’ محال‘‘ اﷲتعالیٰ کی قدرت میں داخل نہیں، وضاحت کریں؟
جواب: محال اسے کہتے ہیں جو موجود نہ ہو سکے۔ مثلاً دوسرا خدا ہونا محال یعنی ناممکن ہے تو اگر یہ زیرِ قدرت ہوتو موجود ہو سکے گا اور محال نہ رہے گا جبکہ اس کو محال نہ ماننا وحدانیت الٰہی کاانکار ہے، اسی طرح اﷲ عزوجل کا فنا ہونا محال ہے اگر فنا ہونے پر قدرت مان لی جائے تو یہ ممکن ہوگا اور جس کا فنا ہونا ممکن ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا، پس ثابت ہوا کہ محال و ناممکن پر اﷲ تعالیٰ کی قدرت ماننا اﷲتعالیٰ ہی کا انکار کرنا ہے۔
سوال نمبر:10۔ اچھائی اور برائی کی نسبت کس کی طرف کرنی چاہیے؟
جواب: برے کام کی نسبت اﷲتعالیٰ کی طرف کرنا بے ادبی ہے اس لیے حکم ہوا ، ’’ تجھے جو بھلائی پہنچے اﷲ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے‘‘۔ () پس برا کام کر کے تقدیر یااللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنابہت بری بات ہے اس لیے اچھے کام کو اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور برے کام کو شامتِ نفس سمجھنا چاہیے۔
سوال نمبر:11۔ اﷲتعالیٰ کے رازق ہونے پر قرآن وحدیث سے دلائل دیجیے؟
جواب: بیشک اﷲتعالیٰ ہر مخلوق کو رزق دیتا ہے حتیٰ کہ کسی کونے میں جالا بناکر بیٹھی ہوئی مکڑی کے رزق کو پر لگاکر اڑاتا ہے اور اس کے پاس پہنچا دیتا ہے۔ حدیث میں ہے، ’’ بیشک بندے کا رزق اس کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اسے موت ڈھونڈتی ہے ‘‘() یعنی جب موت کا بروقت آنا یقینی ہے تو رزق کا ملنا بھی یقینی ہے۔قرآن میں ہے، اﷲ تعالیٰ جس کا رزق چاہے وسیع فرماتا ہے اور جس کا رزق چاہے تنگ کردیتا ہے ۔ ()
سوال نمبر:12۔ رب تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاں ید، وجھ وغیرہ الفاظ آئے، ان کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: ایسے الفاظ جو بظاہر جسم پر دلالت کرتے ہیں جیسے: یَد(ہاتھ)، وَجہٌ (چہرہ)، استواء (بیٹھنا) وغیرہ، ان کے ظاہری معنی لینا گمراہی و بدمذہبی ہے۔ ایسے متشابہ الفاظ کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان کا ظاہری معنیٰ رب تعالیٰ کے حق میں محال ہے۔ مثال کے طور پر یَد کی تاویل قدرت سے، وجہٌ کی ذات سے اور استواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ ید حق ہے، استواء حق ہے مگر اس کا یَد مخلوق کا سا یَد نہیں اور اس کا استواء مخلوق کا سا استواء نہیں۔
سوال نمبر:13۔ عقیدۂ تقدیر کیا ہے؟
جواب: اﷲتعالیٰ نے اپنے ازلی علم غیب کے مطابق ، جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اس نے لکھ لیا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسا ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا یعنی اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا ورنہ جزا و سزا کا فلسفہ بے معنی ہوکر رہ جاتا، یہی عقیدہ تقدیر ہے۔
سوال نمبر:14۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ’’میں مردے زندہ کرتا ہوں باذن ِاﷲ‘‘۔ اس آیت سے کیا نتیجہ اخذ ہوتاہے؟
جواب: اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے اختیار سے اس کے محبوب بندے مردے زندہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے محبوبانِ خدا کی طاقت و قدرت ماننا شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔
سوال نمبر:15۔ استعانت کسے کہتے ہیں اور اس کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب: کسی سے مدد طلب کرنے کو استعانت کہتے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں ۔ حقیقی اور مجازی۔
سوال نمبر:16۔ استعانت حقیقی کی وضاحت کریں۔
جواب: استعانت حقیقی یہ ہے کہ کسی کو قادر بالذات، مالک مستقل اور حقیقی مددگار سمجھ کر اس سے مدد مانگی جائے یعنی اس کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ وہ عطائے الٰہی کے بغیر خود اپنی ذات سے مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ غیرخدا کے لیے ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے اور کوئی مسلمان بھی انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام کے بارے میں ایسا عقیدہ نہیں رکھتا۔
Page 7 of 48

