Deeni Taleem

Total Pages: 48

Page 6 of 48
بسم اللہ الرحمن الرحیم
والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم
باب اول:
عقائد و ایمانیات
سوال نمبر:1۔ ایمان کسے کہتے ہیں؟
جواب: اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنا ایمان کہلاتا ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بتائی ہوئی تمام باتوں کی تصدیق کی جائے۔
سوال نمبر:2۔کفر کسے کہتے ہیں؟
جواب: اسلامی عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ رکھنا، یااسلا م کی کسی مشہور و معلوم بات کا انکار کرنا یا اس میں شک کرنا جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ یا حج کو فرض نہ جاننا، یا قرآن کو اﷲ تعالیٰ کا کلام نہ سمجھنا، یا جنت ، دوزخ ، فرشتے، قیامت وغیرہ پر یقین نہ رکھنا، یا کسی نبی یا فرشتے کی توہین کرنا، یا قرآن مجید کی توہین کرنا، یا کسی سنت کو ہلکا جاننا، یا کسی شرعی حکم کا مذاق اڑانا ،یا مذاق میں کوئی کفریہ جملہ بولنا، یہ سب باتیں کفر ہیں۔
سوال نمبر:3۔عقیدۂ توحید سے کیا مراد ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ ایک ہے، بے نیاز ہے، واجب ُالوجود ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ سب کا خالق ومالک اور رازق ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔زندگی، موت، عزت، ذلت سب اس کے اختیار میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔وہ نہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا۔ سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔وہ عالم الغیب ہے اور ہر عیب سے پاک ہے۔
سوال نمبر:4۔ شرک کسے کہتے ہیں؟
جواب: اللہ کے سوا کسی اور کو خدا جاننا، یا عبادت کے لائق سمجھنا شرک ہے نیز اللہ تعالیٰ کی صفات کو بعینہٖ کسی غیر کے لیے ماننا یعنی کسی مخلوق کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات ماننا شرک ہے۔
سوال نمبر:5۔قرآن کریم میں رب تعالیٰ کی بعض صفات بندوں کے لیے بیان ہوئی ہیں، ایسی چند صفات کا حوالہ دیجیے۔
جواب: سورۂ دھر () میں انسان کو ’’ سمیع و بصیر ‘‘ کہا گیا، سورۂ بقرہ() میں حضورِ اکرم ﷺ کو ’’ شھید ‘‘ اور سورۂ توبہ() میں ’’ رؤوف و رحیم ‘‘ فرمایا گیا ، سورۂ تحریم() میں فرشتوں اور صالح مومنوں کا مددگار ہونا بیان فرمایا۔ اسی طرح حیات، علم،کلام،مدد، ارادہ وغیرہ متعدد صفات بندوں کے لیے بیان ہوئی ہیں۔
سوال نمبر:6۔ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کابندوں کے لیے ماننا شرک کیوں نہیں؟
جواب: کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ خود سے ہیں یعنی ذاتی ہیں نیز ازلی، ابدی، لا محدود اور شانِ خالقیت کے لائق ہیں جبکہ مخلوق کو یہ صفات اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں نیز یہ صفات حادث ، عارضی، محدود اور شانِ مخلوقیت کے لائق ہیں ۔
سوال نمبر:7۔آیت الکرسی میں اﷲتعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئیں ،وہ بتائیں؟
جواب: ارشاد ہوا، ’’ اﷲ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والاہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، وہ کون ہے جو اس کے ہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے، جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے، اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین، اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی، اور وہی ہے بلند بڑائی والا‘‘۔ ()
سوال نمبر : 8۔ سورۃ الاخلاص کا ترجمہ بیان کیجیے؟
جواب: ارشادِ باری تعالیٰ ہوا، ’’ تم فرماؤ وہ اﷲ ہے وہ ایک ہے، اﷲ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ،اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی ‘‘ ۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up