Deeni Taleem

Total Pages: 48

Page 5 of 48
اس سال دس ربیع الاول کو افکارِ اسلامی کے زیرِاہتمام جامع مسجد کنزالایمان میں اسلام آباد کے تمام مدارس کے حفظ کے طلباء کا دینی معلومات کا مقابلہ منعقد ہوا۔ مفتی عبدالرزاق بھترالوی صاحب مہمانِ خصوصی تھے۔آپ نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایا:’’قاری آصف صاحب نے مجھ سے کئی کتابیں لکھنے کی فرمائش کی جس پر میں نے موت کا منظر، عقیدہ حاضروناظر وغیرہ لکھیں۔ اب میں قاری صاحب سے کہتا ہوں کہ میری فرمائش پر سوال وجواب پر مبنی ایسی کتاب لکھیں جو مختصر، آسان اور جامع ہوتاکہ اسے حفظ کے طلباء کے لیے نصاب میں شامل کیا جائے‘‘۔
مجھ فقیر نے حضرت کے حکم کی تعمیل کا ارادہ تو اسی وقت کر لیاتھا لیکن دیگر مصروفیات آڑے آتی رہیں۔ پھر فیصل آباد سے صاحبزادہ علامہ عطاء المصطفیٰ نوری مدظلہ العالی تشریف لائے اور انہوں نے بھی یہی حکم صادر فرمایا تو فقیر نے قلم اٹھا لیا اور استاذی ومرشدی پیرطریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری جیلانی دامت برکاتہم العالیہ کی کتب ’’اسلامی عقائد، خواتین اور دینی مسائل نیز مزاراتِ اولیاء اور توسل‘‘ سے استفادہ کرتے ہوئے یہ رسالہ ترتیب دیا۔
فقیر نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ ان علماءِ کرام کی ہدایات پرمکمل عمل ہو، تاہم بعض جگہ اختصار نہیں ہوسکا جیسے نماز کے فرائض، واجبات وغیرہ۔ ایسے سوالات یاد کرنے میں طلباء اوراساتذہ انہیں پینسل سے خود حصوں میں تقسیم فرماسکتے ہیں۔اگر کہیں کوئی خامی یا غلطی نظر آئے تو مجھ فقیر کو ضرور آگاہ فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح کی جاسکے۔امید ہے کہ یہ مختصر کتاب نہ صرف مدارس کے طلباء کے لیے مفید ہوگی بلکہ یہ اسکولوں کالجوں کے طلباء اور بڑی عمر کے لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔
دعا ہے کہ اللہ کریم استاذی و مرشدی حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا سایہ ہم اہلسنت کے سروں پر دراز فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
خاک پائے علمائے حق،
محمد آصف قادری غفرلہٗ
گُناہوں کا کفّارہحضرتِ سیِّدُنا سَخْبِرَہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضٰی یعنی، جو شخص علم طلب کرتا ہے، تو یہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہے۔(جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحدیث:2657، ج4، ص295)گُناہوں کا کفّارہحضرتِ سیِّدُنا سَخْبِرَہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضٰی یعنی، جو شخص علم طلب کرتا ہے، تو یہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہے۔(جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحدیث:2657، ج4، ص295)
گُناہوں کا کفّارہ
حضرتِ سیِّدُنا سَخْبِرَہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضٰی یعنی، جو شخص علم طلب کرتا ہے، تو یہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہے۔(جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحدیث:2657، ج4، ص295)
گُناہوں کا کفّارہ
حضرتِ سیِّدُنا سَخْبِرَہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضٰی یعنی، جو شخص علم طلب کرتا ہے، تو یہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفّارہ ہے۔(جامع الترمذی، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، الحدیث:2657، ج4، ص295)
Share:
keyboard_arrow_up