نویں آیت میں فرمایا :’’اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا،خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیےجو ایمان لائے اور اچھے کام کرے‘‘۔() معلوم ہوا کہ آخرت کی قدرو منزلت علماء خوب جانتے ہیں دسویں آیت میں ارشاد ہوا، ’’تم فرماؤ!کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان‘‘۔() یعنی جاہل اور عالم ہرگز برابر نہیں ہیں۔ علم وعلماء کی فضیلت پر یہ دس آیات بیان ہوئیں۔
نبیِ مکرم، رسولِ معظم، سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم ﷺ ایک دن مسجدِ نبوی میں تشریف لائے۔ دیکھا کہ ایک جماعت عبادت ودعا میں مشغول ہے اور ایک مجلس میں دینی علم سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ نے فرمایا’’یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے۔جو لوگ علم سیکھنے سکھانے میں مصروف ہیں وہی افضل ہیں، میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘۔ ’’جو لوگ خدا تعالیٰ کے کسی گھر میں جمع ہو کرقرآن سیکھتے سکھاتے ہیں، رب کریم ان پر سکون واطمینان نازل فرماتا ہے، رحمتِ الہٰی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ملائکہ میں ان کا تذکرہ فرماتا ہے‘‘۔()
آقا ومولیٰ ﷺ کافرمانِ ذیشان ہے:’’جوشخص علمِ دین طلب کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستے پر چلاتا ہے، بیشک فرشتے طالبِ علم کی خوشنودی کے لیےاپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ بیشک آسمان وزمین کی تمام مخلوق اور پانی میں مچھلیاں اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں یقیناً عالم کی فضیلت عابد پر وہی ہےجو چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر، اور بیشک علمائے حق انبیاء کرام کے وارث ہیں‘‘۔()
غیب بتانے والے آقا کریم ﷺ کے ا رشاداتِ مبارکہ ہیں:
٭ قیامت کے دن علماء کی دواتوں کی سیاہی اورشہیدوں کا خون تولا جائے گا توان کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آئے گی۔
٭ اللہ تعالیٰ حشر کے دن علماء سے فرمائے گا:” میں نے تمہیں اپنا علم وحلم صرف اسی لیے عطا کیا تاکہ تمہیں بخش دوں۔“
٭ رب تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا:”میں علیم ہوں اور ہر علیم کو دوست رکھتا ہوں۔“ یعنی علم میری صفت ہے اور جو میری اس صفت کو اپنائے وہ میرا محبوب ہے۔()
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی لکھتے ہیں: فقیہ کے علاوہ کوئی آدمی اپنے انجام سے واقف نہیں ہوتا کیونکہ فقیہ نبی کریم ﷺ کے بتانے سے جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔ اسماعیل بن ابی رجا کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن حسن رحمہ اللہ کو خواب میں دیکھاتو آپ کا حال پوچھا۔ آپ نے فرمایا:مجھے خدا تعالیٰ نے بخش دیا اور فرمایا،اگر میں تجھے عذاب دینا چاہتا تو علم عطا نہ کرتا۔
’’ علمِ دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ‘‘() شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’علم سے مراد وہ علم ہے جو مسلمانوں کو وقت پر جاننا ضروری ہے مثلاً جب کوئی اسلام میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور حضور ﷺ کی نبوت کو جاننا فرض ہوگیا اور ہر اس چیز کا علم ضروری ہو گیا جس کے بغیر ایمان صحیح نہیں، اور جب نماز کا وقت آگیا تو اس پر نماز کے احکام جاننا فرض ہو گئے، اور جب ماہِ رمضان آیا تو روزے کے احکام سیکھنا فرض ہوئے، اور جب مالکِ نصاب ہوا تو زکوٰۃ کے مسائل جاننا فرض ہوئے، اور جب نکاح کیا تو حیض و نفاس وغیرہ جتنے مسائل کا بھی زن وشوہر سے تعلق ہے وہ سیکھنا فرض ہوگئے۔()
Page 4 of 48

