بہترین شخص
حضرتِ سیِّدُنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:خَیۡرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہُ یعنی، تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(صحیح البخاری ، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم ...الخ، الحدیث:5027، ج3، ص410)
بہترین شخص
حضرتِ سیِّدُنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:خَیۡرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہُ یعنی، تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(صحیح البخاری ، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم ...الخ، الحدیث:5027، ج3، ص410)
پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم والصلوٰۃ والسلام علی حبیبہ الکریم
علم روشنی ہے،علم آگہی ہے، علم نور ہے، علم شعور ہے،علم زندگی کا مدار ہے، علم مومن کا ہتھیار ہے، علم کے بغیر دنیا میں کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا،علم کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا۔ اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی شے علم سے بہتر ہوتی توملائکہ کے مقابلے میں آدم علیہ السلام کو دی جاتی۔ فرشتوں کی تسبیح وعبادت آدم علیہ السلام کے علمِ اسماء کے برابر نہ ٹھہری تو علمِ دین کا کس قدر اعلیٰ مقام ہوگا!ہم سب کے آقا ومولیٰ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’عالم کو اس عابد پر جو کہ دن کو روزہ رکھ کر رات بھر عبادت کرتا ہےاتنی ہی فضیلت حاصل ہے جتنی مجھے تمہارے ادنیٰ شخص پر حاصل ہے ... ایک عالم شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہےاسے دین کی سمجھ عطا فرما تا ہے‘‘۔()
رب کریم کا ارشادِ گرامی ہے:’’اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر‘‘۔() اس آیت سے علم کے تین فضائل ثابت ہوئے، رب تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے ساتھ علماء کا ذکر کیا۔ انہیں اپنی وحدانیت کا گواہ بتایااور ان کی گواہی کو وجہِ ثبوتِ الوہیت قرار دیا۔ علماء کی گواہی فرشتوں کی گواہی کی مانند معتبر ٹھہرائی۔ دوسری آیت میں اپنی اور عالم کی گواہی کو کافی قرار دیا۔ارشاد ہوا: ’’اور کافر کہتے ہیں، تم رسول نہیں۔تم فرماؤ! اللہ گواہ کافی ہے میرے اور تمہارے بیچ میں اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“ ()
تیسری آیت میں فرمایا گیا:’’اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا، درجے بلند فرمائے گا‘‘۔() معلوم ہوا کہ ایمان کی طرح علم بھی مرتبہ کی بلندی کا سبب ہے۔
چوتھی آیت میں ارشاد ہوا’’اورپختہ علم والے کہتے ہیں، ہم اس پر ایمان لائےسب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے‘‘۔() یہ علماء کے ایمان وعقل کے کمال کی دلیل ہے۔
پانچویں آیت میں فرمایا:’’اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں‘‘۔() یعنی ڈرنے کا حق وہی ادا کرسکتا ہے جوصفاتِ الہٰی،قیامت اور جہنم کے احوال کا عالم ہو۔
چھٹی آیت میں ارشاد ہوا :’’اللہ والے ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو‘‘۔() گویا علم کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں سے امیدیں قطع کر کے خدا تعالیٰ ہی کا ہو جائےاسی لیے عالم کو مولوی بھی کہتے ہیں، منسوب بمولیٰ یعنی اللہ والا۔
ساتویں آیت میں فرمایا:’’اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی‘‘۔ ()اور ظاہر ہے کہ جسے بہت زیادہ بھلائی ملی اس کا مقام و مرتبہ بھی بلند ہو گا۔آٹھویں آیت پڑھیے، ’’اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے‘‘۔ () ثابت ہوا کہ کلامِ الہٰی کے اسرار ورموز علماء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Page 3 of 48

