Deeni Taleem

Total Pages: 48

Page 12 of 48
نبی کریم ﷺ کا دلوں کی کیفیات سے آگاہ ہونا اس حدیثِ صحیح سے بھی ثابت ہے۔ ارشاد ہوا: ’’ خدا کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع پوشیدہ ہے اور نہ خشوع (جو کہ دل کی ایک کیفیت ہے) اور بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں‘‘۔()
سوال نمبر:55۔عقیدہ حاظر وناظر پر کسی تین محدثین کے اقوال مع حوالۂ کتب بتائیں۔
جواب : امام قسطلانی فرماتے ہیں،’’حضور ﷺ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں، ان کی حالتوں، نیتوں، ارادوں اور دل کی باتوں کو بھی جانتے ہیں‘‘۔ ()امام سیوطی فرماتے ہیں، ’’حضورﷺہماری آنکھوں سے اس طرح پوشیدہ ہیں جیسے فرشتے اپنے اجسام کے ساتھ زندہ ہونے کے باوجود ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں‘‘۔ ()شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:’’حضورﷺ اپنی امت کے احوال پر حاضر وناظر ہیں‘‘۔ ()
سوال نمبر:56۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو جو قدرت واختیار عطا کرتا ہے اس پر حدیث بتائیے۔
جواب : حدیث قدسی ہے کہ رب تعالیٰ نے فرمایا، ’’ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنالیتاہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے ہاتھ ہوجاتاہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگے تو اس کو پناہ دیتا ہوں‘‘۔()
سوال نمبر:57۔ اس حدیث کی رو سے ثابت کیجیے کہ اولیاء اللہ کے لیے دور و نزدیک برابر ہوتے ہیں۔
جواب : امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ جب اﷲ کا نورِ جلال بندے کی سماعت ہوجاتاہے تو وہ بندہ دور و نزدیک کی آوازوں کو یکساں سن سکتا ہے اور جب یہ نور بندے کی بصارت ہو جاتا ہے تو وہ دورو نزدیک کی چیزوں کو یکساں دیکھ سکتا ہے اور جب یہی نور بندے کا ہاتھ ہو جائے تو وہ دورونزدیک کی چیزوں میں تصرف کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر:58۔قرآن سے ثابت کیجیے کہ اولیاء اللہ کے لیے دور و نزدیک برابر ہوتے ہیں۔
جواب : حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے کہا: کون ہے جو تختِ بلقیس کو یمن سے بیت المقدس لے آئے؟ تو اللہ تعالیٰ کے ایک ولی نے پلک جھپکنے سے پہلے اس تخت کووہاں حاضر کر دیا۔ () سورۃ النمل کی آیت 40میں یہ بات مذکور ہے۔
سوال نمبر:59۔ نبیِ کریم ﷺ نے ”یا رسول اﷲ“ ﷺ پکارنے کی تعلیم دی، دلیل دیجیے۔
جواب : رسولِ معظم ﷺ نے ایک نابینا صحابی کو قضائے حاجات کے لیے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ (ترجمہ) ’’ اے اﷲ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی حضرت محمد ﷺ کے وسیلے سے جو کہ نبی ٔ رحمت ہیں۔ یا محمد (ﷺ)!(۱) میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کے دربار میں اس لیے متوجہ ہوا ہوں تاکہ میری یہ حاجت پوری ہوجائے۔ یا اﷲ! حضور ﷺ کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما“۔ () (ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ لفظ یا محمد ﷺکی جگہ یا رسول اللہ ﷺ کہنے کا حکم فرماتے ہیں)
سوال نمبر:60۔ حضور ﷺ کو حرفِ نداء سے پکارناصحابہ کی سنت ہے، دلائل دیجیے۔
جواب : نبیِ کریم ﷺ کو حرف ’’ یا‘‘ کے ساتھ ندا کرنا صحابہ کرام کی سنت ہے۔ امام بخاری نے ادب المفرد میں روایت کیاہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا پاؤں سو گیا، کسی نے کہا، انہیں یاد کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ نے بلند آواز سے فرمایا، یا محمداہ ﷺ! تو آپ کا پاؤں فوراً صحیح ہو گیا۔() حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ صحابَۂ کرام کے ہمراہ جب مسیلمہ کذاب کے لشکر سے برسرِ پیکار تھے اس وقت سب کی زبان پر یہ ندا تھی، یامحمداہ (یا رسول اللہ ﷺ! مدد فرمائیے) پھر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔()
Share:
keyboard_arrow_up