سوال نمبر:46۔ علم غیب عطائی پر قرآن سے دلیل دیجیے؟
جواب : ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ’’ اﷲتعالیٰ یوں نہیں کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کر دے لیکن اﷲتعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے‘‘۔ ()
دوسری جگہ فرمایا: ’’ (اے حبیب) تم کو سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے‘‘۔()
مزید فرمایا: ’’یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں‘‘۔ ()
سوال نمبر:47۔ جن آیات میں علم غیب کی نفی ہے ان کا مطلب کیا ہے؟
جواب : جن قرآنی آیات میں علم غیب کی نفی کی گئی ہے ان سے مراد اُس علم کی نفی ہے جو ذاتی ہو یعنی بغیر اﷲ تعالیٰ کے بتائے ہو۔پس اﷲ تعالیٰ کے بتائے بغیر کوئی غیب نہیں جانتا۔
سوال نمبر:48۔ ’’نبی‘‘ کا ترجمہ کیا ہے؟
جواب : نبی کا ترجمہ ہے، ’’ غیب کی خبریں دینے والا‘‘۔ غور کریں کہ جنت دوزخ ثواب عذاب فرشتے اورقیامت وغیرہ سب غیب ہی تو ہیں اور انبیاء کرام غیب ہی کی خبریں دینے کے لیے آتے ہیں۔
سوال نمبر:49۔ حضور ﷺ کے علمِ غیب کی وسعت پر احادیث بیان کیجیے۔
جواب : حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ایک دن کائنات کی تخلیق سے تمام احوال بیان کرنا شروع کیے یہاں تک کہ جنتیوں کے جنت میں اور جہنمیوں کے جہنم میں جانے تک کے تمام واقعات بیان فرمادیے۔() ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک طویل خطبہ دیا اور اس میں ماضی و مستقبل کی تمام خبریں بیان فرما دیں۔() ایک موقع پر صحابہ سے فرمایا، تم مجھ سے جو چاہو پوچھو میں تمہیں جواب دوں گا۔()
سوال نمبر:50۔ عقیدہ ’’حاضر و ناظر ‘‘ کا مفہوم بیان کیجیے؟
جواب : اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزو میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روحِ مصطفیٰ ﷺ کی حقیقت کائنات کے ہر ذرے میں جاری و ساری ہے جس کی بناء پر جانِ کائنات ﷺ روضۂ اقدس سے تمام کائنات کو اپنی ہتھیلی کی طرح ملاحظہ فرماتے ہیں، دور و نزدیک کی آوازیں یکساں سنتے ہیں اور اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہو سکتے ہیں۔
سوال نمبر:51۔ حضور ﷺ کی صفت ’’شاہد‘‘ کے معنی کیا ہیں؟
جواب : اس کے معنی ہیں’’حاضر وناظر‘‘ ۔مفسرین فرماتے ہیں کہ شاھداً کا معنیٰ یہ ہے کہ حضور ﷺ اپنی امت کے افعال کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔()
سوال نمبر:52۔ اس عقیدے پر آیات بیان کریں؟
جواب : فرمانِ الٰہی ہے: ’’ یہ نبی مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب ہے‘‘۔ ()
یہ بھی ارشاد ہوا: ’’ اے غیب بتانے والے! بیشک ہم نے آپ کو بھیجا حاضر و ناظر۔ ‘‘ ()
سوال نمبر:53۔ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً کا ترجمہ و تفسیر بیان کیجئے؟
جواب : ’’اور یہ رسول تمہارے نگہبان وگواہ ‘‘۔()
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں، ’’ کیونکہ آپ اپنے نورِ نبوت سے ہر دیندار کے درجے کو جانتے ہیں۔ پس حضور ﷺ تمہارے گناہوں ، تمہارے ایمان کے درجات، تمہارے نیک و بد اعمال اور تمہارے اخلاص و نفاق کو جانتے ہیں‘‘۔()
سوال نمبر:54۔ عقیدہ حاضر وناظر پر احادیث بیان کریں؟
جواب : آپ کا فرمانِ عالیشان ہے، ’’اللہ تعالیٰ نے میرے لیے دنیا کو ظاہر فرمایا پس میں دنیا کو اور جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہونے والا ہے، سب کچھ اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں‘‘۔()ایک اور ارشاد ہے، ’’بیشک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں اور خدا کی قسم ! میں اپنے حوضِ کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں‘‘۔ ()
Page 11 of 48

