۳۔ جو لوگ مقصدحیات سے غافل ہوں انہیں ان کی دینی ذمہ داریاں سمجھانے کے علاوہ باربار یاد دہانی بھی کرائی جائے۔
۴۔ داعی کو چاہئے کہ وہ حکمت کے ساتھ لوگوں کو رحمت و مغفرت اور اجر و ثواب کی خوشخبری بھی دیتا رہے۔
۵۔ نیز انہیں گناہوں اور غفلت سے باز رکھنے کے لئے حسبِ موقع خوفِ خدا اور حساب و عذاب پر مبنی آیات و احادیث بھی سناتا رہے۔
۶۔ داعی پر لازم ہےکہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ حق بات کی تاکید کرے اورپھر مسلسل راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کی وصیت کرتا رہے۔
دینی دعوت کا ایک وصف جسے سورۃ آلِ عمران کے حوالے سے کتاب کے آغاز میں بیان کیا گیا،یہ ہے کہ دعوت حق کا فریضہ انجام دینے کے لئے ایک منظم جماعت یا تنظیم ہونی چاہئے جو دینِ حق کے غلبہ کے لئے اجتماعی طور پر جدوجہد کرے۔داعیانِ حق کی یہ جماعت اور تنظیم دراصل ان کے یکساں نظریات، نیک عزائم اور پرخلوص جذبات کا اتحاد ہوتا ہے۔
اسی لئے ارشادِ باری تعالی ہوا،
’’ بےشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں صف باندھ کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ‘‘۔
ترتیبِ دعوت ذاتی اصلاح کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے۔ اپنے گھر والوں کی اصلاح و تربیت سے غافل ہوکر دوسرے شہروں کے پھیرے لگانا اور دور دراز کے لوگوں کی اصلاح کی خاطر چلّے کے لئے نکل جانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنا گھر جلتا چھوڑ کر پانی کی بالٹی لئے دوسرے علاقے میں نکل جائے اور وہاں تلاش کرےکہ کسی کے گھر آگ لگی ہو تو بجھا دی جائے۔ کیا یہ جہالت و حماقت نہیں ہے؟
اللّٰہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے،
”اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ‘‘۔
جس طرح ہر شخص اپنے اہل و عیال کی پرورش کے لئے تکالیف برداشت کرتا ہے۔ اسی طرح اسے چاہئے کہ وہ انہیں دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے ہر ممکن سعی کرے اور یہ اس کی شرعی ذمہ داری ہے۔ آقائے دوجہاں ﷺ نے فرمایا، ’’تم میں سے ہر ایک نگراں اور ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، حاکم نگراں ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ ہر شخص اپنے گھر والوں کا نگراں ہے اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔ ہر عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ اس اہم ذمہ داری کے پیشِ نظر آقا و مولیٰ ﷺ نے نصیحت فرمائی کہ تم اپنے گھر والوں کی تربیت میں اپنی چھڑی ان سے نہ ہٹانا یعنی مناسب سختی کرتے رہنا۔ حضور ﷺکا ارشادِ گرامی ہے کہ ”تین اشخاص پر اللّٰہ تعالیٰ نے جنت حرام فرمادی۔
اول: شراب کا عادی ،
دوم: والدین کا نافرمان،
سوم: وہ بے حیا جو اپنے گھر میں بے حیائی اور بے غیرتی کے کام ہونے دے“۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی دینی تربیت کرنے اور ان سے دینی احکام پر عمل کروانے میں مناسب سختی کرے یہ اہل و عیال کے حقوق میں سے ایک ہے، قیامت کے دن اس سے غفلت پر بھی بعض لوگوں کو عذاب دیا جائے گا۔
اس بارے میں ایک عبرت انگیز روایت پڑھئے۔
شاید یہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کا سبب بن جائے۔ فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: کہ قیامت میں ایک شخص بارگاہ الٰہی میں لایا جائے گا اس کی بیوی اور اولاد اس کی شکایت کرتے ہوئے عرض کریں گے: الٰہی اس سے ہمارے حقوق کے متعلق مؤاخذہ کر کیونکہ اس نے ہمیں دین کا علم نہ سکھایا اور ہمیں حرام کما کر کھلایااور ہم بے علم تھے۔ لہٰذا اس شخص کو حرام کمانے کے سبب عذاب ہوگا یہاں تک کہ اس کا گوشت جھڑ جائے گا اس کے بعد انہیں میزان پر لایا جائے گا تو فرشتے اس شخص کی پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے ا س کے گھر والوں میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر کہے گا کہ میری نیکیاں کم ہیں اور وہ اس کی نیکیوں میں سے لے لے گا پھر دوسرا آگے بڑھے گا اور وہ بھی اس کی نیکیوں میں سے اپنی کمی پوری کرے گا اس طرح اس کے اہل و عیال اس کی ساری نیکیاں لے جائیں گے تو وہ شخص اپنے گھر والوں سے یوں مخاطب ہوگا: ’’آہ اب میری گردن پر وہ گناہ رہ گئے جو میں نے تمہارے لئے کئے تھے‘‘۔ فرشتے کہیں گے، یہ وہ بد نصیب شخص ہے جس کے گھر والے اس کی ساری نیکیاں لے گئے اور یہ ان کی وجہ سے اب جہنم میں جائے گا۔ (قرۃ العیون)

