2۔ تبلیغ: تبلیغ کے لفظی معنی پہنچانے کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں تبلیغ سے مراد دعوت حق کو لوگوں تک اس طرح پہنچا دینا ہے کہ وہ د ل و دماغ پر اثر انداز ہو۔
ارشاد ہوا، ’’اے رسول! پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے‘‘۔
سورۃ الاحزاب میں مومنوں کی صفات یوں بیان ہوئیں،۔
’’ وہ جو اللّٰہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللّٰہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرتے‘‘۔نبی کریم ﷺ نے تئیس برس تک یہ فریضہ ادا فرمایا اور اپنے غلاموں کو بھی اس ذمہ داری کو ادا کرتے رہنے کی تلقین فرمائی۔
ارشاد ہوا
’’مجھ سے (دین سیکھ کر) لوگوں کو پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو“۔
3۔ تذکیر: تذکیر کے معنی نصیحت کرنے کے اور یاد دلانے کے ہیں۔ انسان دنیاوی آلائشوں میں الجھ کر اپنے مقصد حیات سے غافل ہوجاتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اسے بار بار یاد دہانی کرائی جائے اور نصیحت کے ذریعے سمجھا یاجائے تاکہ وہ غفلت و معصیت سے بچنے کی کوشش کرے۔
ارشاد ہوا۔
’’ اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے“۔
دوسری جگہ فرمایا۔
’’ تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو “۔
4۔ تبشیر : تبشیر کے معنی خوشخبری یا بشارت دینا ہے ۔ حضور ﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے بشیر ونذیر یعنی خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر مبعوث فرمایا۔
ایک جگہ یوں ارشاد ہوا،
’’ اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں“۔
دوسری جگہ فرمایا گیا،
’’رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے‘‘۔معلوم ہوا کہ لوگوں کو راہ حق کی طرف مائل کرنے کے لئے رضائے الٰہی ، جنت اور اجر و ثواب کی بشارت دینا بھی دینی دعوت کا ایک اہم وصف ہے۔
5۔ انذار: انذار کے معنی خبردار کرنے اور ڈر سنانے کے ہیں ۔ بعض لوگ رحمت و مغفرت کی بشارت سن کر احکام پر عمل کرنے میں سستی اور غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو اور خدا کے منکروں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا چاہیے تاکہ وہ راہ حق پر گامزن ہوجائیں۔
ارشاد باری تعالی ہوا،
’’ اے بالا پوش اوڑھنے والےکھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو“ ۔
سورۃ الانعام میں فرمایا گیا۔
’’( فرمادو) میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں ا ور جن جن کو پہنچے“۔
صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں۔
” معنیٰ یہ ہیں ’’کہ اس قرآن سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جن کو یہ قرآن پہنچے‘‘۔
6۔ تواصی بالحق: نصیحت کا مفہوم ہے کسی کو خیر خواہی کے جذبے سے کسی کام کی طرف راغب کرنایا مسلسل کسی کام کی تاکید کرتے رہنا۔ المفردات میں اس کا ایک مفہوم وعظ و نصیحت سے کوئی کام کرنے پر ابھارنابھی بیان ہوا ہے۔
سورۃ البلد میں ارشاد ہوا:
’’ جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں“۔
سورۃ العصر میں فرمایا گیا۔
” جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی “۔
اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لئے دینی دعوت کو ان چھ(6) اوصاف کا جامع ہونا چاہئے ۔
۱۔ دینی دعوت محض رضائے الٰہی کے لئے اللّٰہ تعالی کی بندگی اور آقا و مولیٰ ﷺ کی طرف بلانے پر مبنی ہونی چاہئے۔
۲۔ داعی جو دینی تعلیمات جانتا ہووہ پراثر انداز میں لوگوں تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کرتا رہے۔

