بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیک یا رحمۃ اللعالمین
باب اول۔
دینی دعوت
ارشا دِباری تعالیٰ ہوا:
’’ اس زمانۂ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہےمگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی
(اُن تکلیفوں اور مشقتوں پر جو دین کی راہ میں پیش آئیں)‘‘
ان آیات سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت کے نقصان سے بچنے کے لئے اور حقیقی فلاح و کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہر شخص کو یہ چار صفات اپنانی ضروری ہیں۔
اول: ایمان لائے،
دوم: نیک اعمال کرے،
سوم: ایک دوسرے کو حق بات کی تاکید کرے،
چہارم: راہ حق میں آنے والی مصیبتوں پر خود بھی صبر کرے اور دوسروں کو بھی صبر کی تاکید کرے۔
سورۂ آلِ عمران میں فرمایا گیا:
’’ اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائے اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُرائی سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے ‘‘۔
اس آیت مبارکہ:میں مومنوں کو جن تین صفات کے اپنانے کا حکم دیا گیا ہے وہ صفات یعنی اللّٰہ کی طرف بلانا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع فرمانا۔ ہمارے آقا ومولیٰﷺ کی صفات مبارکہ ہیں ۔ آپ ﷺ اللّٰہ کی طرف بلاتے ہیں۔
نیز بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع فرماتے ہیں۔چونکہ رب تعالیٰ نے آقاﷺ کی پیروی کو ان لوگوں کے لئے بہتر قرار دیا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔نیز اللّٰہ عزوجل نے اپنے حبیبﷺ کی اطاعت ایمان والوں پر فرض کی ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم دعوت الی اللّٰہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر تینوں کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیں۔ اب آقاﷺ کے ارشادات کی روشنی میں ایک مسلمان کی ذمہ داریاں ملاحظہ فرمائیں۔
ارشاد فرمایا:
’’تم میں سے جو شخص برائی ہوتی دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اسے زبان سے بدل دے ، اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو اسے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ‘‘۔(مسلم ،ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ)
آقاﷺ کا ایک اور ارشاد گرامی ہے:
’’تم میں سے ہر ایک نگراں اور ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا ، ہر شخص اپنے گھر والوں کا نگراں ہے اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا ، ہر عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگراں ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا اور خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اس سے اس کی بابت سوال ہوگا ۔‘‘
حضور اکرمﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ ’’اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ورنہ قریب ہے کہ اللّٰہ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے اور پھر تم اس سے دعا کرو لیکن تمہاری دعا قبول نہ ہو۔ ‘‘(ترمذی)
دینی دعوت کے اوصاف قرآن کریم نے دینی دعوت کے چھ (6)اوصاف بیان کئے ہیں جو حسب ذیل ہیں۔
1۔ دعوت: دعوت کا لفظی معنی بلانایا پکارنا ہے لیکن اصطلاحی طور پر دعوت سے مراد اللّٰہ تعالیٰ کی طرف بلانا اور حق قبول کرنے کے لئے لوگوں کو آمادہ کرنا ہے۔
سورۃ آلِ عمران میں فرمایا گیا:
یَدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْر
یعنی بھلائی کی طرف بلائیں۔
اللّٰہ عز وجل کی طرف بلانے کے لئے ضروری ہے کہ غرور و تکبر اور ذاتی مفاد سے دور رہتے ہوئے محض رضائے الٰہی اور مخاطب کی خیر خواہی کے پر خلوص جذبے سے دعوت الی اللّہ کا فریضہ سر انجام دیا جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
’’ اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللّٰہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں “۔

