ہے نئی نسل مذہب کی حقانیت اور ہر شعبہ زندگی میں اس کی افادیت پر تمام تَر ایمانی حرارت کے ساتھ یقین رکھتی ہے۔ اس کے دل میں اسلام کے حوالے سے کتابِ مبین کی آفاقی عظمت اور سنتِ نبوی ﷺکی برکت و رحمت کا واضح اور زندہ تصور موجود ہے۔
بس فرق یہ ہے کہ پرانی نسل طے شدہ قواعد پر پورے وثوق کے ساتھ عمل پیرا رہتی ہے اور نئی نسل اپنی عصری حِسّیت کے زیرِ اثر ان قواعد کے بارے میں سوال اٹھاتی رہتی ہے اس کا فطری تجسس اسے ایک پل بیٹھنے نہیں دیتا اور وہ چاہتی ہے کہ قدیم آئینے میں ایسے نئے منظر جلوہ گر ہوں جو اس کی حسّیت سے ہم آہنگ ہوں اس لئے یہ ملال کہ نئی نسل بدلحاظ یا منحرف ہو گئی ہے کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ آج مساجد گذشتہ کل کے مقابلے میں نو جوانوں سے زیادہ بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ تمام مذہبی تنظیموں کے روح رواں نو جوان ہیں، علماء و مشائخ کے دست و باز ونوجوان ہیں، بوسنیا سے لےکر کشمیر تک جہاد جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی یا جہاد کی سنت کو نوجوان ہی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی معاشرے سے نوجوانوں کو یا ان کی قوتِ عمل کو منہا کر دیا جائے تو وہ معاشرہ معطل ہو کر رہ جائے گا۔ نو جوانوں کی حرارتِ ایمانی پرانی نسل کی علمی و عملی صلاحیتوں کو فعال رکھتی ہے اور ان کو غور و فکر کی منہاج فراہم کرتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ لوگ لائقِ ستائش ہیں جو اپنے تجربہ اور علم کے آئینے میں نئی نسل کو مثبت خطوط پر آگے بڑھنے میں مدد دے سکیں ۔
ان کو رجائیت اور قنوطیت سے بچاسکیں اور زندگی کے حوالے سے ان کے اندر کسی منفی سوچ کو پروان چڑھنے نہ دیں۔ روشن خیالی ایک مسلسل ضرورت ہے لیکن اس روشن خیالی کی حدود کا تعین بھی بہت ضروری ہے۔ یہ حدود ایک مسلم معاشرے میں یقیناً قرآن و سنت سے ہی اخذ کی جاسکتی ہیں ۔ شرعی حدود، عقیدہ کی صورت میں فکری اور روحانی ترفع کی جانب لےجاتی ہیں۔ ایک ایسے ترفع کی جانب جو ایک عامی مسلمان کو مؤمن کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ یہی تبلیغ ہے اور یہی تنظیم ہے، اسی تبلیغ و تنظیم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ممتاز عالمِ دین علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نے ہمیشہ نوجوانوں کی فکری اور روحانی تربیت کو ضروری تصور کیا ہے۔ فکری اور روحانی تربیت دراصل کسی عمارت کی تعمیر سے قبل درست بنیادی اینٹ رکھنے کا عمل ہے۔ اور اینٹ و ہی درست رکھے گا جو معمار ہوگا ۔ جو عمارت کی مضبوطی اور خوبصورتی کی ترجیحات اور افادیت سے پوری طرح واقف ہوگا۔ علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی پیشِ نظر کتاب ان کے اس معمارانہ جذبہ کی عکاسی ہے۔ وہ اپنے موضوع اور مقصد پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ میری گفتگو اصل موضوع پر حاشیہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہماری نوجوان نسل جو بے سمتی اور بے سکونی سے پریشان و خائف ہے اس کتاب کے مطالعہ سے اور پھر اس مطالعہ پر عمل کر کے وہ نہ صرف اپنی مشکل کاحل پالے گی بلکہ فی زمانہ مذہب حقہ کو درپیش خطرات کے ازالے اور استیصال کے لیے خود کو وقف کر دے گی یہی عمل اللّٰہ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں حصولِ عزت اور شرفِ قبولیت کا عمل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک ﷺکے صدقے میں علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی عمر، علم ، عمل اور توفیقات میں وسعت و برکت عطا فرمائے تا کہ تبلیغ وتنظیم کے تقاضے بحسن و خوبی پورے ہوسکیں۔
خواجہ رضی حیدر غلامِ غلامانِ غوث ِاعظم

