Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 5 of 50

تقریظِ جمیل

از فاضلِ جلیل ادیب شہیر حضرت علامہ مولانا محمد افضل کو ٹلوی مدظلہ العالی (ایم اے عربی، اسلامیات، سیاسیات ناظم جامعہ قادریہ رضویہ، فیصل آباد

 نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

بسم اللّٰه الرحمن الرحیم

یہ شکایت عام ہے کہ معاشرہ میں بے راہ روی بڑھ رہی ہے، مغربی تہذیب کے اثرات پھیل رہے ہیں، دینی اقدار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، مذہبی رجحانا ت میں کمی آرہی ہے ، حالانکہ آئے دن سیرت کانفرنسیں بھی منعقد ہورہی ہیں ، اسلامی نظامِ حیات کے حوالے سے مجالس مذاکرہ بھی برپا ہوتی ہیں، مساجد میں جمعہ کے اجتماعات میں خطباء حضرات اپنے جو ہر بھی دکھاتے ہیں اور تبلیغی جماعتیں بھی قریہ قریہ، بستی بستی گھومتی نظر آتی ہیں بایں ہمہ حالات جوں کے توں ہیں۔ ہر دردمند مسلمان سوچتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ سیرت کانفرنسیں نا کام کیوں ہیں، مجالس مذاکرات سے مقاصد کیوں حاصل نہیں ہوتے ، خطباء و واعظین کیوں دلوں پر اثر انداز نہیں ہوتے، تبلیغی جماعتوں کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟ اس ہجوم یاس و نا امیدی میں پیر طریقت رہبرشریعت پاسبانِ مسلکِ رضا علامہ شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ کی نئی تصنیف ”دعوت و تنظیم“ روشنی کی کرن بن کر سامنے آئی ہے کتاب کے مطالعہ سے ذہن میں پیدا ہونے والے تمام سوالوں کا جواب مل گیا، سیرت کانفرنسوں کی ناکامی کا سبب سمجھ میں آگیا،مجالسِ مذاکرات بے نتیجہ رہنے کی حقیقت معلوم ہوگئی، خطباء و واعظین کے خطبوں اور واعظوں کی بے اثری کا راز کھل گیا، تبلیغی جماعتوں کے غیر مؤثرہونے کی وجہ معلوم ہوگئی ۔ ”دعوت و تنظیم“ میں قبلہ شاہ صاحب نے بڑے شگفتہ مگر عام فہم انداز میں حقیقت کو واضح کیا ہے۔

دینی دعوت ، داعیانِ حق کے اوصاف،دعوت و تنظیم اور راہِ حق کی آزمائشوں جیسے عنوانات قائم کر کے دینی تبلیغ کی اہمیت، مبلغین و واعظین کے اوصاف اور دعوتِ حق کی شرائط ولوازمات بڑی وضاحت کے ساتھک بیان فرمائے ہیں۔

یہ کتاب وقت کی ایک اہم ضرورت ہے اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان خصوصاً خطباء و واعظین اور مبلغین کے لئے نہایت مفید ثابت ہوگا۔ اس سے پہلے حضرت شاہ صاحب قبلہ ضیاء الحديث ، تصوف و طریقت، جمالِ مصطفیٰ اور عظمتِ مصطفیٰ جیسی ایمان افروز کتب تصنیف فرما کر اہلِ علم و دانش سے دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں اور بلا مبالغہ ہزاروں مسلمان ان کتابوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ میں صدقِ دل سے قبلہ شاہ صاحب کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں،

اللّٰہ تعالیٰ حضرت کا سایَۂ کرم تا دیر عوامِ اہلِ سنت کے سروں پر قائم رکھے اور آپ کے فیوض و برکات سے مسلمانوں کو مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین

محمد افضل کو ٹلوی غفرلہ ۵ رمضان المبارک۱۴۱۹ھ؁

نئی نسل اور تبلیغ و تنظیم کے تقاضے تبلیغ کیا ہے اور اس کا تنظیم سے کیا تعلق ہے یہ سوال اب جبکہ ہم ترقی یافتہ سماجی نفسیات کا روز بروز حصہ بنتے جا رہے ہیں بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اجتماعی اور انفرادی زندگی کی ہر سطح پر تغیر و تبدل نے قدیم اقدار و قواعد کو ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ان اصولوں کو بھی مشکوک اور پامال کر دیا ہے جن پر عمل کرکے ہمارے اسلاف نے مذہب کی تشریح و تفہیم کی ایک گرامر مرتب کی تھی ۔ اس لئے یہ ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے کہ فکری و مذہبی ضرورتوں کو عصری تقاضوں کی روشنی میں بالاجتہاد پورا کیا جائے ۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر صدی میں سر اٹھاتا ہے اور مصلحین اس کے تدارک کے لیے اپنی علمی و عملی صلاحیتوں کو بروئےکار لاتے ہیں تا کہ ابلاغیاتی خلا پیدا نہ ہو اور معاشرے میں مذہب کا اثر و نفوذبرقرار رہے۔

مذہب سے حیاتِ انسانی میں توازن پیدا ہوتا ہے ایسا توازن جس کے بغیر انسانی زندگی محض ایک ہستیٔ پریشان رہتی ہے کیونکہ اس بکھری ہوئی کا ئنات اور اس میں موجود ہر چیز کو ایک پوری اکائی بنانا مذہب کا مقصدِ اصلی ہےاور اکائی اسی صورت میں مکمل ہوتی ہے جب انسان کو نظامِ کا ئنات کا داخلی شعورحاصل ہو اور جز کا کُل سے جو تعلق ہے اس کا واضح اظہار ہو سکے اِنتشار ، بے عملی اور بے سکونی ہر زمانہ میں انسانی فطرت کا لازمہ رہی ہے اور یہ صورتحال نئی نسل میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے اور اس کی وجہ وہی ہے کہ فکری تقاضوں کی آویزش ۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نئی نسل شاید باغی ہو گئی ہے حالانکہ ایسا نہیں

Share:
keyboard_arrow_up