رحمتِ عالم ﷺ کا ارشاد ہے:
جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے بستر بھی علیحدہ کر دو۔ (ابو داؤد)
معلوم ہوا کہ اولاد کی دینی تربیت میں مناسب سختی کرنا ضروری ہے۔ خلافِ شرع کاموں پر دیگر اہل خانہ کی اصلاح کے لئے بھی سختی کرنے کا قرآنِ کریم نے حکم دیا ہے،
ارشاد ہوا۔
’’ جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں (ہلکی مار)مارو ‘‘۔
بوقتِ ضرورت کسی خلافِ شرع کا م کو مٹانے کے لئے عملی اقدام بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ
آقا ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت گھر میں ایک پردہ لٹک رہا تھا جس پر تصویریں تھیں آپ کے چہرہ کا رنگ بدل گیا آپ نے اس پردے کو پھاڑ دیا اور فرمایا، قیامت میں سب سے زیادہ عذاب ان کو ہوگا جو تصویریں بناتے ہیں۔ (بخاری)
گھر والوں کی اصلاح کے بعد زیادہ حق عزیز و اقارب کا ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا،’’
اور اے محبوب ! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ‘‘۔
اگر دینی دعوت میں ان کا ساتھ میسر آگیا تو کام پھیلانے میں زیادہ آسانی ہوگی کیونکہ قریبی تعلق اور محبت کے باعث وہ بھر پور تعاون کریں گے اور دوسری بات یہ کہ ان کا ساتھ ہونے کا دوسرے لوگوں پر اچھا اثر پڑے گا اور داعی کے لئے آزمائشیں نسبتاً کم ہو جائیں گی۔ پھر دینی دعوت کا سلسلہ پورے محلہ اور پھر شہر تک وسیع ہو سکتا ہے ۔
جیسا کہ حضور ﷺ کو عزیز و اقارب کے بعد مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف کے لوگوں تک دعوت و تبلیغ کے لئے فرمایا گیا ۔
ارشاد ہوا،
’’ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گِرد ہیں‘‘۔
پھر حکم ہوا کہ
اے محبوب آپ تمام انسانوں کو مخاطب کرکے یہ فرما دیں ، ’’ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللّٰہ کا رسول ہوں ‘‘۔
ذرائعِ دعوت داعیانِ حق کو دینی دعوت عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے ایسی حکمت عملی طے کرنی چاہیے کہ ہر شخص تک ان کا پیغام پہنچ جائے۔ دعوت پہنچانا آپ کا کام ہے خواہ کوئی قبول کرے یا نہیں۔ اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ کے نظریات وافکار آپ کے ذہن میں بالکل واضح ہوں تاکہ آپ لوگوں کو بتا سکیں کہ آپ کو صراط مستقیم کی پوری بصیرت حاصل ہے اور یہ راستہ آپ نے سوچ سمجھ کر اپنایا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
’’(اے محبوب!) تم فرماؤ یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں اور اللّٰہ کو پاکی ہے اور میں شریک کرنے والا(مشرک) نہیں ‘‘۔
چونکہ دین کے نام پر ملک میں بہت سی تنظیمیں کام کررہی ہیں اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنی دعوت کے امتیازی اوصاف عوام تک پہنچائیں تاکہ آپ کی دعوت کی برتری ثابت ہو اور وہ آپ کی طرف مائل ہوں۔ بہت سے لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کی تنظیم کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ ان اغراض ومقاصد کے حصول کے لئے آپ نے کیا طریقہ کار اختیار کیا ہے؟ آپ کو مقاصد کے حصول میں کتنی کامیابی ہوئی ہے ؟ آپ کی سرگرمیاں دوسرے لوگوں پر کیا فوقیت رکھتی ہے؟ آپ کی تنظیم کی قیادت کیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے؟ وغیرہ۔
اس طرح کے سوالوں کے مناسب جوابات جاننے کے بعد لوگوں کے لئے آپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا۔
1۔دعوت بذریعہ محافل دروس و نعت:

