Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 11 of 50

قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مبنی دروس کا انعقاد دعوت حق کو پھیلانے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس کے لئے کسی صحیح العقیدہ باعمل عالم دین سے مسجد یا کسی بھی گھر میں دین سکھانے کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ یونہی خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے کسی سنی عالمہ سے کسی گھر میں درس کا انعقاد وقت کی نہایت اہم ضرورت ہے۔

مسجد میں لوگوں کو جمع کرنے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی جبکہ کسی گھرمیں درس کے انعقاد کے لئے لوگوں کو شخصی رابطوں کے ذریعے مدعو کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ذاتی تعلقات اور میل جول اس ضمن میں بہت کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ ہر عمارت کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے دین اسلام کی بنیاد توحید و رسالت اور آخرت کے عقائد ہیں ۔ اگرچہ ہر مسلمان ان کے بارے میں کچھ نہ کچھ علم رکھتا ہے۔ لیکن ان کا صحیح علم دوسروں تک پہنچانا داعی کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ان عقائد پر مسلمان کا ایمان مضبوط ہوجائے تو اس کی زندگی ایک روحانی انقلاب سے آشنا ہوجاتی ہے اور پھر اسے اپنے اعمال کی اصلاح کرنا بالکل دشوار نہیں ہوتا ۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ فقہی مسائل کو عقائد پر ترجیح دیتے ہیں اور ایسے پروگراموں میں شرکت کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں جن میں طہارت و نماز وغیرہ کے مسائل بیان کئے جائیں ، اس طرح بعض لوگ ذکر و نعت کی محافل کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں، لوگوں کے ذہنی رجحان کے مطابق فقہی مسائل کی تعلیم یا ذکر و نعت کو بھی دینی دعوت پہنچانے کا نقطۂ آغاز بنایا جاسکتا ہے۔ ہفتہ وار درس کے علاوہ روزانہ مختصر دورانیہ کا درس بھی نصب العین کی یاد دہانی میں مددگار ثابت ہوتا ہے نیز ایسے مواقع پر دعوت دین کے لئے خصوصی پروگرام ضرور منعقد ہونے چاہئیں جب لوگوں کو جمع کرنے میں معمولی سی محنت درکار ہوتی ہے جیسے شب معراج ، شب براء ت ، میلاد النبی ، یوم عاشورہ اور رمضان المبارک کا پورا مہینہ۔ بچوں میں قراء ت، نعت، تقریر اور دینی معلومات کے مقابلے کروا کے یا بچوں کی دینی تربیت کے لئے خصوصی نشستیں منعقد کرکے ان میں بھی دینی سوچ کو پروان چڑھانا داعیانِ حق کی اہم ذمہ داری ہے۔

2۔ دعوت بذریعہ ملاقات و رابطہ :

مساجد میں منعقدہ پروگراموں میں عموماً نمازی حضرات شریک ہوجاتے ہیں لیکن جو لوگ مسجد نہیں آتے انہیں دعوتِ دین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ داعی ان سے ان کے گھر یا دوکان یا دفتر وغیرہ جا کر ملاقات کرے اور خیریت و عافیت پوچھنے کے ساتھ ساتھ حکمت کے ساتھ مقصدِ حیات یاد دلائے اور اللّٰہ عزوجل کی بندگی اور آقا کی اطاعت کی طرف راغب کرے۔ دعوت دیتے وقت مخاطب کی ذہنی سطح کے علاوہ اس کے مرتبہ کا لحاظ رکھنا بھی حکمت کا تقاضا ہے۔

اسی لئے آقا کا ارشاد ہے،

’’لوگوں سے ان کے مرتبہ کے مطابق برتاؤ کرو “۔

ایک عام تعلیم یافتہ ، ایک اَن پڑھ اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے گفتگو کرتے ہوئے اس فرق کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ دعوت حق کو قبول کرنے میں اکثر لوگوں کی تعلیم ، دولت یا حیثیت ہی ان کے لئے رکاوٹ ہوتی ہے اس لئے موقع محل دیکھ کر مناسب طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ دوران گفتگو ابتدا میں اختلافی امور سے گریز کیا جائے اور پہلی ہی گفتگو کو فیصلہ کن مرحلہ تک پہنچانا بھی ضروری نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ اگر پانی کے قطرے مسلسل کسی پتھر پر بھی پڑیں تو اس میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ رٹے رٹائے جملے داعیانہ تڑپ اور روحانیت سے خالی ہوتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up