عقائد کی اصلاح کے بعد اعمال کی باری آتی ہے اور اعمال میں اہم ترین فریضہ نماز ہے۔ اصلاح فکر و عمل کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرایا جائے تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوں اور اس کی رحمت ومغفرت کا بھی ذکر کیا جائے تاکہ مایوسی طاری نہ ہو بلکہ اجر وثواب کا ذکر انہیں زیادہ نیکیوں کی طرف راغب کرنے کا باعث ہو۔
دینی دعوت دیتے وقت یہ بھی خیال رکھا جائے کہ بعض تو صرف سن کر مان جاتے ہیں کہ فلاں کتاب میں اس طرح لکھا ہے مگر مادیت پرست اور غفلت زدہ لوگ جو اسلام سے زیادہ سائنس کے پرستار ہوتے ہیں وہ مطمئن نہیں ہوتے۔ اس لئے داعی کو چاہئے کہ وہ جس موضوع پر گفتگو کرے اس کے بارے میں مطالعہ کرکے عقلی دلائل بھی بیان کرے، اس سے جدید تعلیم یافتہ طبقہ جلد متأثر ہوتا ہے۔
3۔ دعوت بذریعہ کتب و سی ڈی :
اچھی کتاب ایک بہترین دوست و مشفق معلم اور تبلیغ و اشاعت دین کا ایک مؤثر ذریعہ ہے خاص طور پر خواتین تک دینی دعوت پہنچانے کے لئے یہ اہم ترین ذریعہ ہے کیونکہ خواتین مسجد میں درس و وعظ کی نشستوں میں شریک نہیں ہو سکتیں اور کتاب کے ذریعے وہ گھر بیٹھے دینی تعلیمات سے آگہی حاصل کر سکتی ہیں۔ اہلسنت کی کم نصیبی ہے کہ خواتین کی دینی تعلیم و تربیت پر اب تک بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ داعیانِ حق کے پاس مناسب تعداد میں دینی کتابچے یا پمفلٹ موجود ہونے چاہئیں جنہیں وہ رابطہ کے دوران لوگوں تک پہنچا سکیں۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ دینی کتب پر مشتمل ایک لائبریری ہر علاقے میں قائم کی جائے جہاں سے لوگ مطالعہ کے لئے کتب لے سکیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ تنظیم کے اراکین اپنے اپنے علاقے کی مساجد کے باہر نماز ِ جمعہ کے وقت سٹال لگائیں اور رعایتی ہدیہ پر قرآنِ کریم مع ترجمہ کنز الایمان، جید علماء اہلسنت کی کتب اور کم ہدیے والے کتابچے لوگوں تک پہنچائیں، اسٹال کے تعارف کے لئے اس مسجد کے خطیب صاحب سے اعلان کی درخواست کی جائے تو موزوں ہوگا۔ اس مصروف دور میں لوگوں کے پاس بازار جاکر صحیح اسلامی فکر رکھنے والی کتابیں خریدنے کا بھی وقت نہیں ہے اس طرح انہیں اپنے گھر کے قریب سے صحیح العقیدہ علماء کی کتب میسر آسکتی ہیں۔
ایک تیسری صورت یہ ہے کہ۔
دینی کتب اور پمفلٹ لوگوں کو مفت دئے جائیں یہ کام انفرادی طور پر تو ہر مبلغ ضرور کرے لیکن اجتماعی طور پر اس فریضہ کی ادائیگی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ داعیانِ حق کو چاہئے کہ وہ مخیر حضرات سے رابطہ کرکے انہیں اس کام کی اہمیت کا احساس دلائیں اور راہ خدا میں مال خرچ کرنے پر مبنی آیات و احادیث کی روشنی میں اس کار خیر کے لئے آمادہ کریں۔
آقا ﷺ کا یہ فرمان عا لیشان مشعلِ راہ بنایئے۔
’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے مگر تین اعمال کے ثواب اسے ہمیشہ ملتے رہتے ہیں
اول: صدقہ جاریہ،
دوم: وہ علم جس سے لوگوں کو نفع پہنچتا رہے ،
سوم: وہ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے“۔
سائنسی ترقی کے باعث اب دعوت دین پہنچانے کا ایک اور مؤثر ذریعہ سی ڈی بھی ہے مختلف علماءِ حق کی تقاریر اور نعتوں کی سی ڈیز لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہر علاقے میں ایک لائبریری قائم کی جاسکتی ہے نیز سی ڈیز کو بھی بذریعہ اسٹال لوگوں کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کو اس سلسلے میں ترغیب دی جائے کہ وہ کسی بھی وقت پورے ہفتے میں ایک بیان یا درس ضرور سنیں، اگر ان کے پاس گاڑی ہو تو دفتر وغیرہ جاتے ہوئے وہ یہ کام باآسانی کرسکتے ہیں ۔
اسی طرح انہیں اس بات پر بھی آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے گھر میں قراء ت اور نعتوں کی سی ڈیز بھی ضرور رکھیں ، اس طرح گانوں والی برائی کا بھی خوب مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

