Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 13 of 50

باب دوم داعیانِ حق کے اوصاف امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے والوں کے لئے امام غزالی نےکی میائے سعادت میں تین اوصاف لازم قرار دیے ہیں۔

اول : علم،

دوم : تقویٰ ،

سوم : حسن اخلاق۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ نیکی کا حکم دینے والے کے لئے پانچ باتیں ضروری ہیں۔

علم کہ علم کے بغیر اس کام کو اچھے طریقے سے نہیں کیا جاسکتا،

اس کام سے رضائے الٰہی اور دین کی سر بلندی مقصود ہو،

جس کو نیکی کا حکم دے شفقت ونرمی سے دے،

نیکی کا حکم دینے والا مشکلات پر صبر کرنے والا ہو،

وہ خود بھی نیکی پر عمل کرتا ہو، داعیانِ حق یا مبلغین کے اوصاف کو مندرجہ ذیل عنوانات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

محبتِ خدا عزوجل وعشقِ رسول

اخلاصِ نیت

حصولِ علم وفہم دین

داعیانہ تڑپ

قول وفعل میں یکسانیت

حکمت و دانائی

نرمی اور شفقت

عفو ودرگذر

تدریج

10 ۔ میانہ روی

11۔صبر و استقامت

محبتِ خدا عز وجل وعشقِ رسول

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’ تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظار کرو) یہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم (یعنی عذاب)لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا “۔

معلوم ہوا کہ داعی کے دل میں خاص طور پر اللّٰہ تعالیٰ، اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللّٰہ کی محبت دنیا اور اس میں موجود تمام محبوب رشتوں اور پیاری نعمتوں سے زائدہونی چاہئے۔ ایک صحابی بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کی،

یا رسول اللہ ! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس کی ان سے ملاقات نہ ہوسکی؟ ارشاد فرمایا:

” اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ“

وہ انہی کے ساتھ ہوگا جن سے وہ محبت کرتا ہے ۔

ثابت ہوا کہ محبت زمان ومکان کے فاصلے مٹا کر مؤمن کو اس کے حقیقی محبوب کے قریب کر دیتی ہے اور پھر محبوب کی رفاقت وقرب کا احساس بندے کو ہر خوف وغم سے بے نیاز کردیتا ہے۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذت آشنائی

ایک اور صحابی نے آقا ومولیٰ سے سوال کیا، قیامت کب آئے گی؟

ارشاد فرمایا:

قیامت کے لئے تو نے کیا تیاری کی ہے؟ عرض کی، نہ بہت ساری نمازیں جمع کی ہیں نہ روزے اور نہ ہی صدقے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔

آپ نے فرمایا،

اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ

تو قیامت میں انہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

میں نے مسلمانوں کو اسلام لانے کے بعد کسی بات پر ایسا خوش ہوتے نہ دیکھا جیسا وہ اس بات سے خوش ہوئے۔

محبت رسول ایمان کی حلاوت عطا کرتی ہے اور قوت محرکہ کے طور پر نبی کریم کی اطاعت کی طرف مائل کرتی ہے اور انجام کار محبت کرنے والا اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ ہر دعوے کی کوئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ محبت رسول کا دعویٰ کرتے ہوں اور آپ کے لمحات اور آپ کے شب و روز آقا و مولیٰ کی اطاعت و پیروی سے خالی ہوں۔رؤف و رحیم آقا کی نعتیں سن کر آپ سبحان اللّٰہ توکہتے ہوں گے مگر تعریف زبان پر جاری ہو اور اعمال پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو؟

کون مسلمان ایسا کم نصیب ہوگا جو دنیا میں حضور اکرم کی رحمت اور آخرت میں آپ کے قرب سے محروم ہونا چاہے گا؟یقیناً کوئی نہیں تو پھر لازم ہے کہ آقا کی محبت کی شمع اپنے سینے میں فروزاں کی جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up