Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 14 of 50

راہِ حق کے داعی کو تو عشقِ رسول کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے کونکہ اس راہ میں کئی مشکل مقام آتے ہیں اور جب تک داعی اپنے محبوب و کریم آقا کی محبت کے جذبے سے سرشار نہ ہو وہ اس راہ کی مشکلات کا مردا نہ وار مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ عشقِ مصطفی آپ کے سینوں میں راسخ ہو جائے اور آپ اپنے آقا و مولیٰ  کے رنگ میں ایسے رنگ جائیں کہ ان کا مشن آپ کا مشن ہو،

ان کی ادائیں آپ کا طرزِ زندگی بنیں اور آپ کے روز و شب ان کے اسوہ ٔحسنہ کے سانچے میں ڈھل جائیں، پھر آپ بھی فخر کے ساتھ یہ اعلان کر سکیں ،’’ہم نے اللّٰہ کے رنگ میں رنگ گئے،

اور اللّٰہ سے بہتر کس کی کا رنگ؟ اور ہم اسی کو پوجتے ہیں‘‘۔ اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:

دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے معمو ر رہا

سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا

2۔ اخلاص نیت :

داعی یا مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ اس کی نیت صرف اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو ورنہ اس کی ساری جدوجہد رائیگاں جائے گی۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ہر شخص کے لئے وہی ہے جو وہ نیت کرے۔“

ایک اور حدیث میں ہے کہ،

قیامت میں پہلے شہید کو لایا جائے گا اور اللّہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ، تو نے میری رضا کے لئے جہاد نہیں کیا بلکہ تو نے اس لئے جنگ کی کہ تجھے بہادر کہا جائے، وہ کہہ لیا گیا،پھر حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

پھر وہ جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن پڑھا اسے لایا جائے گا،اس سے رب تعالیٰ فرمائے گا:

تو نے اس لئے علم سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے، قرآن اس لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے وہ کہہ لیا گیا، پھر حکم ہوگا تو وہ اوندھے منہ گھسیٹ کرجہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

پھر وہ جسے اللہ نے خوب مال دیا، لایا جائے گا اس سے رب تعالیٰ فرمائے گا ، تو نے اس لئے مال خرچ کیا کہ تجھے سخی کہاجائے وہ کہہ لیا گیا پھر اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔

معلوم ہو ا کہ عبادات میں اخلاص بہت ضروری ہے جو نیکی دکھاوے، شہرت یا کسی اور دنیاوی غرض سے کی جائے برباد ہوجاتی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہو ا:

’’ اللہ کو پوجو نِرے اس کے بندے ہوکر‘‘۔

یعنی اخلاص اختیار کرو۔

حضور نے فرمایا:

’’ اخلاص اللّٰہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، 

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

میں اسے اس کے دل میں رکھتا ہوں جسے دوست بنا لیتا ہوں“۔ امام غزالی فرماتے ہیں :

علم بیج ہے، عمل کھیتی ہے اور اخلاص پانی ہے۔

(کیمیائے سعادت)

اخلاص کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ علم دین سیکھنا فرض ہے لیکن بری نیت اس اہم نیکی کو برباد کردیتی ہے۔

حدیث پاک میں ہے،

”جس نے علم اس لئے حاصل کیا کہ علماء سے مقابلہ کرے گا، جاہلوں سے جھگڑے گا اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا“۔

صحابَۂ کرام علیہم الرضوان اخلاص کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ ایک بار حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک کافر کو زمین پر گرادیا اور اس کے سینے پر چڑھ کر اسے قتل کرنا چاہتے تھے کہ اس نے آپ کے چہرے پر تھوک دیا ۔ آپ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا، مجھے ڈر ہے کہ اگر میں تجھے قتل کروں تو یہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ اپنے نفس کے لئے ہوگا۔

اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی مجرم کودُرے لگا رہے تھے کہ اس نے آپ کو گالی دے دی اس پر آپ نے دُرے لگانا روک دیا، اور پوچھنے پر فرمایا، اب تک میرااسے مارنا رب تعالیٰ کے لئے تھا اب گالی سننے کے بعد میں اگر تمہیں ماروں تو اس میں میرا غصہ بھی شامل ہوگا۔

آقا نے ایک صحابی سے فرمایا ،

عمل اخلاص سے کیا کرو کیونکہ ایسا عمل کم بھی ہو تو کافی ہوگا۔

Share:
keyboard_arrow_up