دعوتِ حق کی کامیابی کی صورت میں شیطان فخر و غرور میں مبتلا کرنے کی سعی کرتا ہے اور اگر دعوت کارگر نہ ہو اور کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے تو داعی کو دعوت و تبلیغ کے اہم فریضے سے ہی بدظن کرنے کی بھر پور کوششیں کرتا ہے اسی لئے مومن کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر لمحہ شیاطین کے مکر و فریب سے اللّٰہ عزوجل کی طاقتور پناہ مانگتا رہے۔
ارشاد ہوا،
’’ بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں“۔
تمام آزمائشوں پر صبرواستقامت کا پیکر بننے کے لئے حدیث پاک میں ایک بہترین طریقہ بیان فرمایا گیا ہے جس کو اپنالینے سے صبر کرنا دشوار نہ ہوگا۔
آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشادِگرامی ہے:
’’ جس پر کوئی مصیبت آئے اور اسے صبر کرنا مشکل معلوم ہو تو اسے چاہئے کہ میرے مصائب و تکالیف کو یاد کر لے‘‘(اس سے صبر آسان ہو جائے گا)۔
تمام آزمائشوں کے باوجود راہ حق پر قائم رہنے والوں پر رحمت الٰہیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور انہیں فلاح دارین کا مژدہ سناتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:
’’بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللّٰہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا، ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس (جنت)میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو “۔
از خوابِ گراں خیز: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ اے ایمان والو اگر تم اللّٰہ کےدین کی مدد کرو گے اللّٰہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا “۔
دوسری جگہ فرمایا:
’’بےشک اللّٰہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بےشک ضرور اللّٰہ قدرت والا غالب ہے “۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوا:
’’ اگر اللّٰہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہیے “۔
ان آیات سے ثابت ہوا کہ جو ایمان والے امر باالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی مدد کریں گے۔
اللّٰہ عز و جل ضرور ان کی مدد فرمائے گا۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
اللّٰہ تعالیٰ نے تو مسلمانوں کو اپنے دین کا مددگار بننے کا حکم دیا ہے۔
جبکہ مسلمان شیطان کے دھوکے میں آکر دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر غفلت کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ اے ایمان والو! دنیا کی چند روزہ زندگی تمہیں دھوکا نہ دے،
رب کریم کا ارشادِ گرامی ہے،
’’ اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کوداور بےشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچّی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے “۔
اے راہ آخرت کے مسافرو! دنیا کی محبت میں مبتلا اور اسے جمع کرنے کی فکر میں سر گرداں وپریشان ہر شخص سے کہہ دو کہ
آقائے دو جہاں رحمتِ عالم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:
’’جو تمام غموں کو ایک آخرت ہی کا غم بنا لے اللّٰہ تعالیٰ اسے دنیا کے تمام غموں میں کافی ہوگا اور جسے دنیا کے غم ہر طرف لئے پھریں (اور اسے آخرت کی فکر نہ ہو) اللّٰہ اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کرے گا کہ وہ کون سے جنگل میں ہلاک ہوا“۔
اے شمع رسالت کے پروانو! خواب غفلت سے بیدار ہوجاؤ اور اصلاح فکر و عمل کے داعی بن جاؤ۔ گھر گھر کوچہ کوچہ شہر شہر غلامانِ رسولﷺ کو یہ پیغام دو کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی شمع اپنے دل میں فروزاں کر لو اور اس کی نورانی روشنی میں آقا و مولیٰﷺ کی اطاعت کو وطیرۂ جاں بنا لو اور ان سے تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب کی بھیک مانگو کہ رب تعالیٰ کی ساری نعمتیں اسی درِ اقدس سے تقسیم ہوتی ہیں۔

