اللّٰہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ:
’’ اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو “۔
آقا ﷺ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کو یہی نصیحت فرماتے تھے کہ:
’’ہمیشہ حق بات کہو اگرچہ کڑوی ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو“۔
دشمنِ احمد پہ شدّت کیجئے: دین کا مذاق اڑانے والوں اور بد مذہبوں سے بچنا بھی راہ حق میں آزمائش ہے۔
ارشاد ہوا:
’’ اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہےوہ جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو “۔
’’اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو کہ کہیں کوئی جان اپنے کیے پر پکڑی نہ جائے “۔
یعنی ایسے لوگوں کو نصیحت ضرور کرنی چاہئے مگر ان سے دوستی رکھنا یا ان کے دینی کاموں کے مذاق اڑانے کو برداشت کرنا یا ان کی ایسی مجلسوں میں جانا جہاں ہمارے دینی عقائد و اعمال کے بارے میں بکواس کی جاتی ہو، ہر گز جائز نہیں ہے۔
حکمِ الٰہی ہے،
’’تو قائم رہو(راہِ حق پر) جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے اور اے لوگو سرکشی نہ کرو بےشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللّٰہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے “۔
قرآنِ حکیم نے مومنوں کی پہچان یہ بتائی ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے گستاخوں سے دوستی نہیں رکھتے۔
ارشاد ہوا،
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللّٰہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا: راہِ حق میں ایک اور آزمائش یہ بھی آتی ہے کہ آپ کی خلوص کاوشوں کے باوجود بہت کم لوگ آپ کی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ہمارے ذمہ دوسروں تک دینی دعوت پہنچا دینا ہے انہیں ہدایت دینا نہیں۔ اللّٰہ عزوجل جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت عطا فرمائے۔
ارشاد ہوا،
’’تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو بہکے تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں“۔
دوسری جگہ فرمایا گیا:
’’ ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ(منکرینِ حق) کہہ رہے ہیں اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں تو قرآن سے نصیحت کرو اُسے جو میری دھمکی (یعنی عذاب)سے ڈرے “۔
یعنی داعیانِ حق کا کام نصیحت کرنا ہے زبردستی کسی کو راہِ حق پر لانا نہیں۔ ایک اچھا داعی نہ صرف دوسروں کی اصلاح کے لئے بھر پور کوشش کرتا ہے بلکہ اس کوشش کوبھی وہ محض اللّٰہ تعالیٰ کا کرم سمجھتے ہوئے اسی کی رحمت پر بھروسہ کرتا ہے
قرآنِ کریم میں فرمایا گیا،
’’میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللّٰہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں “۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مومن گویا زبانِ حال سے یہ کہتا ہے، اے لوگو! میں تمہیں اپنے رب ہی کی طرف بلاتا ہوں اگر تم قبول کر لو تو بھی میں غرور و تکبر نہ کروں گا اور اگر تم اس دعوت کو جھٹلا دو اور میری مخالفت کرو تو بھی میں رضائے الٰہیٰ کی خاطر غیر شرعی طرز ِ عمل اختیار نہ کروں گا اپنے رب کریم ہی سے اس کے فضل کرم کا سوال کروں گا۔

