جب انبیاء کرام کا مذاق اڑایا گیا تو ہم کس شمار میں ہیں؟
حضرت سعد رضی اللّٰہ عنہ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ، یارسول اللّٰہ ﷺ! سب سے زیاد ہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے ؟
ارشاد فرمایا،
’’انبیاء علیہم السلام کی پھر جو دین و ایمان میں ان سے زیادہ قریب ہو۔ آدمی کی آزمائش اس کے دین کے لحاظ سے ہوتی ہے پس جو شخص اپنے دین میں مضبوط ہوتا ہے اس کی آزمائش سخت ہوتی ہے اور جو شخص دین کے اعتبار سے کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش ہلکی ہوتی ہے یہاں تک کہ مومن زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا“۔
ایک صحابی بارگاہِ نبوی میں عرض گزار ہوئے ، یارسول اللہ ﷺ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔
ارشاد فرمایا سوچ لے تو کیا کہہ رہا ہے، انہوں نے عرض کی ،
اللّٰہ تعالیٰ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، یہ بات اس نے تین بار کہی۔
آقا ﷺ نے فرمایا،
’’اگر تو سچا ہے تو فقیری کے مقابلے کے لئے اچھی طرح تیار ہوجا کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف فقیری سیلاب کے پانی سے بھی زیادہ تیز دوڑتی ہے“۔
ایک حدیث شریف میں ارشاد ہوا،
’’ مسلما ن کو تھکا وٹ، غم ، بیماری ، تکلیف وغیرہ جو بھی پہنچے حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھ جائے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کردیتا ہے“۔
دوسری حدیث میں فرمایا گیا،
’’اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کو اعلیٰ مقام عطا فرمانا چاہتا ہے جسے وہ نیکی سے حاصل نہیں کرسکتا تو اللّٰہ تعالیٰ اسے جان ومال اور اولاد کی پریشانیوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ اور اس بندے کو صبر بھی عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ وہ اس اعلیٰ مقام کو حاصل کرلیتا ہے“۔
آقا ومولیٰ ﷺ کا ایک اور ارشادِ مبارک ہے،
’’ قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو اجر و ثواب دیا جائے گا تو وہ جو دنیا میں پریشانیوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے تھے تمنا کریں گے کہ کاش ہمارے جسم دنیا میں قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے“۔
اے قرارِ بے قراں، الغیاث ! راہِ حق میں جو مصیبتیں اور آزمائشیں آئیں ان پر ایمان والوں کو صبر کرنے کے ساتھ رب تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنا چاہیے ۔
ارشاد ہوا :
’’ اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے “۔
دوسری جگہ فرمایا:
’’اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللّٰہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو بےشک اللّٰہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں“۔
ایک اور جگہ یہ بھی حکم دیا گیا:
’’ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللّٰہ صابروں کے ساتھ ہے“۔
راہِ حق کی مشکلات پر مسلمانوں کو استقامت اور سکون قلب کے لئے خدا کا سہارا لینا ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔
ارشاد ہوا،
’’ اور بےشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو “۔
دوسری جگہ فرمایا:
’’ وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے “۔
ان آزمائشوں سے مومنوں کے ایمان کو ایسی مضبوطی ملتی ہے کہ جب اہلِ باطل اپنی پوری طاقت سے انہیں ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان اہل حق کا ایمان اور مضبوط ہوجا تا ہے ۔
ارشاد ہوا:
’’ وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لیے جتھا جوڑا یعنی لشکر تیار کیا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللّٰہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کار ساز “ ۔

