18۔ جہد مسلسل: تنظیم کے لئے جمود موت ہے اور نصب العین کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا ہی زندگی ہے۔
بقول ڈاکٹر اقبال:
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روحِ امم کی حیات، کشمکشِ انقلاب
پانی بھی کھڑا رہے تو گندہ ہوجاتا ہے اس لئے تنظیم کو جمود سے بچانا بے حد ضروری ہے۔ امیر کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تنظیم کے کارکنوں کو ایسا لائحہ عمل بنا کر دے جس پر عمل کرنا نہ تو ان کے لئے بوجھ ہو اور نہ ہی انہیں اتنی فراغت ملے کہ وہ نصب العین سے غافل ہوجائیں،
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
’’ مجھے یہ بات سخت ناپسند ہے کہ میں تمہیں فارغ بیٹھے دیکھوں کہ نہ تم دنیا کا کوئی کام کرو اور نہ ہی آخرت کے لئے کوئی عمل“۔ یعنی کاہل اور نکما رہنا بڑا عیب ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’ تو جب تم نماز سے فارغ ہو تودعا میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو“۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ:
مومن کو فرض عبادت اور دیگر ضروری مصروفیات سے جب بھی فرصت ملے اسے دعوت حق کے کاموں میں مشغول ہوجانا چاہیے اور کسی صورت بےکار نہیں رہنا چاہیے۔
آقا ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اکثر لوگ نقصان میں ہیں۔ وہ ہیں، صحت اور فراغت“۔
یعنی ان نعمتوں کو غفلت کے ساتھ بیکار اور لغو کاموں میں برباد کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فرماتے ہیں:
دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی، خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
امام غزالی کیمیائے سعادت میں تحریر فرماتے ہیں:
’’بیکار اور فارغ نوجوان کو اللّٰہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جب جوان فارغ ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں گھر بنالیتا ہے اور اس کا دل و دماغ برے خیالات اور وسوسوں سے بھر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے بہکنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس لئے ایسے جوان کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم کو کسی اچھے کام میں مشغول رکھے تا کہ اس کا دل وسوسوں کی طرف مائل نہ ہو“۔
سورہ الم نشرح کی مذکورہ آیت 7میں ’’فانصب ‘‘ کا ترجمہ
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’محنت کرو‘‘فرمایا ہے ۔
ظاہر ہے کہ مشکل کام کرنے میں ہی محنت درکار ہوتی ہے آسان کا م تو معمولی کوشش سے ہی ہوجاتے ہیں ۔
پس شمع رسالت کے پروانوں پر لازم ہے کہ وہ دین کی سر بلندی کے لئے ، خوفِ خدا عزوجل و عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے فروغ کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے باطل و طاغوت کے خلاف مصروف جہاد ہوجائیں اور اس راہ کی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے سرگرمِ عمل رہیں۔
مسلمِ خوابیدہ اٹھ ہنگامہ آرا تو بھی ہو
وہ چمک اٹھا افق گرمِ تقاضا تو بھی
ہو قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے
باب چہارم راہِ حق کی آزمائشیں شہادت گہہِ الفت: ڈاکٹر اقبال کا ایک شعر ہے:
چوں می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الٰہ را
یعنی جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو کانپ جاتا ہوں کیونکہ مجھے کلمہ حق کہنے کی مشکلات معلوم ہیں۔ راہِ حق میں کڑوی باتوں اور ذلت آمیز طعنوں سے بھی آزمائش ہوتی ہے۔
ارشاد ہوا،
’’ بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے“۔
آج آپ دیکھ لیجئے کہ راہ حق پر چلنے والوں کو مولوی اور ملا کہا جاتا ہے، کبھی بنیاد پرست اور بیک ورڈ قرار دیاجا تا ہے اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اہل باطل دین کی آڑ میں اہل حق کو مشرک اور بدعتی کہہ کر شعائرِ اہل سنت کا مذاق اڑ اتے ہیں ۔
قرآن عظیم نے بتاتا ہے کہ یہ آزمائشیں نئی نہیں ہیں
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
’’ اور بےشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں“۔

