Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 44 of 50

ان تینوں اصحاب نے اپنی غلطی پر شرمندگی ظاہر کی اور شب و روز گریہ و زاری کرکے بارگاہ الٰہی میں مغفرت مانگتے رہے اور اس سزا پر غم و غصہ ظاہر کئے بغیر اخلاص کے ساتھ اطاعت امیر پر قائم رہے یہاں تک کہ اللّٰہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔

اکثر تنظیمیں اور جماعتیں بڑے جوش و خروش سے قائم کی جاتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جوش و خروش ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور پھر اس تنظیم کا نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ اس کا اہم سبب نظم و ضبط کا فقدان ہوتا ہے ،خوش اخلاقی اور شفقت ومحبت اپنانے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ تنظیم کے نظم و ضبط کو تباہ ہونے دیا جائے، اس لئے غیر ضروری نرمی اور بے جا ڈھیل انتشار کا باعث بنتی ہے۔ اختلافِ رائے بذاتِ خود بری بات نہیں البتہ اختلافات کو انا کا مسئلہ بنا کر تنظیم میں گروہ بندی کرنا ایک بدترین جرم ہے جس کی فوری روک تھام بے حد ضروری ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو حکمت کے ساتھ سمجھانا چاہئے، اگر پھر بھی وہ ضد پر اڑے رہیں تو انہیں تنظیم سے رخصت کرنے میں ہی عافیت ہے۔

17۔ کارکنوں سے اچھا برتاؤ: بہترین عہدیدار اور اچھا امیر و ہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ سے مخلص ہو، اپنے نصب العین سے مخلص ہواور اپنے زیر تربیت کارکنوں کے لئے بھی مخلص ہو، وہ اپنے کارکنوں کی اچھی تربیت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے اور اسے ان سے اس قدر زیادہ دلی ہمدردی اور محبت ہو کہ وہ انہیں جو بات بھی کتنے ہی سخت لہجے اور ڈانٹ کے انداز میں کہے وہ اسے اپنے لئے رحمت و شفقت سمجھیں اور انہیں اس بات کا کامل یقین ہو کہ ہمارے نصیحت کرنے والے کے غصے اور ڈانٹ میں بھی ہماری بھلائی ہے۔ بعض لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ’’لوگ کام نہیں کرتے‘‘ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا تنظیم کے سرکردہ افراد کارکنوں سے کام لینا جانتے ہیں؟ ہر وقت حکم دینے والے انداز میں گفتگو کرنا، خود کو کارکنوں سے برتر جاننا،کارکنوں کی معمولی غلطیوں پر انہیں سخت الفاظ اور حقارت بھرے لہجے میں ڈانٹنا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جو کارکنوں کو ان بڑے لوگوں سے متنفر کر دیتی ہیں۔

عہدیدار اور کارکنوں کا باہمی رشتہ اخوت و محبت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اگر یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو یہ رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ کارکنوں کی مثال نازک آبگینوں سے بھی دی جاسکتی ہے جو معمولی سی ٹھیس سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ تنظیمی ماحول میں ہر وقت خشک مزاج اور افسردہ بھی نہیں رہنا چاہئے،

آقا و مولیٰ بھی اپنے شایانِ شان خوش طبعی فرماتے تھے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان فرماتے ہیں کہ آقا و مولیٰ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہ تھا۔

مواہبِ لدنیہ میں ہے کہ:

’’آپ اپنے صحابَۂ کرام سے اس انداز میں خوش طبعی فرماتے کہ ان کے دلوں میں اپنی محبت کا بیج بو دیتے“۔

اسلامی تنظیم کے ذمہ دار افراد کو بھی اپنے کارکنوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے، ان کے جذبات و احساسات کی قدر کرنی چاہئے، حسب ِ موقع ان کی تعریف اور حوصلہ افزائی بھی کرتے رہنا چاہئے۔ ایک سینئر کارکن کے چند حوصلہ افزائی کے جملے سے کسی سست کارکن کو متحرک بنا سکتے ہیں اسی طرح اس کے چند حوصلہ شکن جملے کسی متحرک و فعال کارکن کو ضائع کر سکتے ہیں۔ تنظیم کے عہدیداروں یعنی ذمہ دار افراد کو کارکنوں کے مسائل سے بھی آگاہ رہنا چاہئے اور انہیں حل کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ کارکنوں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے۔ دور حاضر میں یہ کام اس طرح بھی آسانی سے ممکن ہے کہ کارکنوں کی ٹیلیفون ڈائریکٹری بنالی جائے اور بذریعہ ٹیلیفون ان سے وقتاًفوقتاً رابطہ رکھا جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up