Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 43 of 50

انہیں پہلے اپنے ہدف کا تعین کرنا چاہیے مثال کے طور پر ہر داعی ایک ماہ میں ۲۵ نئے افراد کو دینی دعوت دے گا یا اتنے نئے نمازیوں کو نما ز پڑھنے کی ترغیب دے گا اور ۱۰ نمازیوں کو عقائد یا فقہی مسائل سکھائے گا یا سیکھنے کے لئے آمادہ کرے گا اور خود فلاں فلاں عنوانات پر دینی کتب کا مطالعہ کرے گا ۔ ہدف کا تعین کرنے کے بعد ہر ماہ میں ایک یا دو بار اپنی کارکردگی کو جانچنے کے لئے ’’احتسابی اجلاس ‘‘ منعقد کئے جائیں جن میں تنظیم کے تمام ذمہ دار افراد جمع ہوکر اپنی اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ ہر کارکن نے کس حد تک اپنی ذمہ داری کو ادا کیا ہے ۔

پھر دوسرے ساتھی نرم لفظوں، میٹھے لہجے اور تمام اسلامی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس پر مثبت تنقید کریں ۔ اگر وہ خامی کی نشاندہی کریں تو خوش دلی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں اور اس ناقد کا شکریہ ادا کریں۔ اگر وہ غلط فہمی کی بناء پر آپ کے متعلق سخت جملے کہہ دیں تو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب میں ہرگز سخت جملہ نہ کہیں بلکہ اپنے اوپر قابو رکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو حقیقت حال سے آگاہ کردیں ۔

یہ کام اسی صورت میں آسان ہوگا جبکہ آپ کی جدوجہد اپنی ذات یا عزت نفس کے لئے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ مقصد اور عظیم نصب العین کے لئے ہو جس کا ثمرہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب  کی رضا کی صورت میں مومنو ں کو نصیب ہو تا ہے۔

صورت شمشیر ہے دست قضا میں و ہ قوم

کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

16۔ نظم وضبط کی پابندی: کسی تنظیم کا وجود اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اس کے اراکین مخصوص اصول و ضوابط کی پابندی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ اراکین نظم و ضبط کی پابندی چھوڑ دیتے ہیں ، تنظیم ختم ہوجاتی ہے۔

قرآن میں مومنوں کی صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ

وہ راہِ خدا میں ایسے اتفاق و اتحاد سے جہاد کرتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ

آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر تم بزدلی کرو گے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو بےشک اللّٰہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔

معلوم ہوا کہ نظم و ضبط کی پابندی کے بغیر سیسہ پلائی دیوار بننا ممکن نہیں اور کارکنوں کے باہم اختلاف سے تنظیم کا وجود خطرہ میں پڑ جاتا ہے اگر صبر کا دامن تھاما نہ جائے۔ امیر اور عہدیداران کو چاہئے کہ خود بھی نظم و ضبط کی پابندی کریں اور کارکنوں بھی اس کی تلقین کریں۔ اگر کوئی ساتھی پروگرام میں شریک نہیں ہو سکتا اور اس کے پاس شرعی عذر ہے تو اس عذر کو قبول کر لینا چاہئے لیکن جو ساتھی بغیر شرعی عذر کے اجلاس میں نہ آئیں یا اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا نہ کریں انہیں تنبیہ کرنا یا مناسب تربیتی سزا دینا بھی نظم و ضبط کا اہم جزو ہے۔

اس سلسلے میں سورۂ توبہ کی آیت118 کے تحت تین صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کا واقعہ پڑھ لیجئے جن سے غزوہ تبوک کے لئے نکلنے میں سستی ہوئی اور وہ جہاد کے لئے نہ نکل سکے تو اس وجہ سے حضور کی ہدایت کے مطابق پچاس دن تک صحابَۂ کرام نے ان سے قطع تعلق کئے رکھا اور ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بھی ان سے کلام ترک کر دیا،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی انہیں پہچانتا ہی نہیں۔

اس دوران شاہ غسان نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو ایک خط کے ذریعہ ورغلانے کی کوشش کی ، لکھا کہ تم کوئی ذلیل آدمی نہیں ہو، تمہارے صاحب تم پر ظلم کر رہے ہیں، ہمارے پاس آجاؤ ہم تمہیں اعلیٰ منصب دیں گے۔ انہوں نے وہ خط پھاڑ دیا۔

Share:
keyboard_arrow_up