Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 42 of 50

اجلاس کے دوران ان تمام شرکاء کو اس بات کا ضرور احساس رہنا چاہئے کہ وہ ایک اہم مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں اس لئے انہیں سنجیدگی کے ساتھ متعلقہ موضوع پر گفتگو کرنی چاہئے۔ کسی کی بات کاٹ کر درمیان میں بولنا یا کئی لوگوں کا ایک ساتھ بولنا یا سنجیدہ گفتگو کے دوران طنز ومزاح کا سلسلہ شروع کر دینا نہایت غیر مناسب بات ہے جو کہ کارکنوں کے غیر ذمہ دارانہ رویّے کی علامت ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ جب لوگ مشورہ دیں گے تو ظاہر ہے کہ سب کے مشورے تو نہیں مانے جا سکتے لہٰذا اس بات کو ہر گز کوئی انا کا مسئلہ نہ بنائے کہ میرا مشورہ نہیں مانا گیا۔ اس سلسلے میں رضائے الٰہی اور اطاعتِ امیر ان دونوں اصولوں کو ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے۔

۱۴۔ عہدیداروں کا انتخاب:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، (اللّٰہ تعالیٰ)تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا“۔

معلوم ہو ا کہ تمام مومنوں کو اور خاص طور پر داعیان حق کو سچی اور سیدھی بات ہی کہنا چاہیے اسی سے سب اعمال میں درستگی پیدا ہوتی ہے پس نہ تو کبھی عہدیدار اس طریقہ سے ہٹے اور نہ ہی کوئی داعی اس ہدایت سے دور ہو۔

تنظیم میں ایک اہم مسئلہ مختلف ذمہ داریوں کے لئے کارکنوں کے انتخاب کا ہوتا ہے۔

رب تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ:

’’ تم اپنی امانتیں انہی کے سپرد کرو جو اس کے اہل ہیں“ ۔

آقا نے فرمایا:

جب امانتوں کا ضیاع عام ہوجائے تو سمجھو کہ قیامت قریب ہے ۔ عرض کی گئی، امانت ضائع کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ فرمایا، جب ذمہ داریاں نااہل لوگوں کو سونپ دی جائیں تو قیامت کا انتظار کرو‘‘۔ (بخاری)

جانب داری، اقربا پروری ، بیجارواداری یا کسی ذاتی مفاد کی وجہ سے کسی کے حق میں رائے دینا خیانت ہے جو کسی صورت جائز نہیں ۔ امیر اور دیگر عہدیدار متقی ، مخلص اور ان تمام خصوصیات کے حامل ہونے چاہئیں جو پہلے بیان کی گئیں۔ ان میں سے کوئی عوام میں غلط شہرت نہ رکھتا ہو کیونکہ ان کے کردار کا تنظیم کی سرگرمیوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ جب کسی کو ذمہ داری سونپ دی جائے تو اسے چاہیے کہ خلوص، دیانت، احساس ذمہ داری اور انتھائی محنت کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے۔

آقا کا ارشاد ہے،

’’جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی امور کا ذمہ دار ہو اور وہ ان کے ساتھ خیانت کرے (یعنی اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا نہ کرے) تو اللّٰہ عزوجل اس پر جنت حرام فرمادے گا“۔

اگر کوئی عہدیدار جو زیادہ ذمہ دار کارکن ہوتا ہے بالفرض اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا نہ کرسکے تو اس کو چاہیے کہ تنظیم کے بہترین مفاد میں رضائے الٰہی کے لئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے تا کہ کوئی اور متحرک کارکن اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرسکے۔

حضور نے فرمایا:

کسی مومن کے لئے اپنے نفس کو ذلیل کرنا جائز نہیں۔ عرض کی گئی، کوئی شخص اپنے نفس کو کس طرح ذلیل کرتا ہے ؟ فرمایا: اس طرح کہ وہ اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھائے“۔

15۔ خود احتسابی : امیر اور داعیان حق کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ خود احتسابی کا اصول اپنائیں تا کہ وہ اپنی کارکردگی کا خود تنقیدی جائز ہ لیتے رہیں اور اس طرح اپنی خامیوں کو دور کرسکیں ۔ تنظیم کے عہدیدار کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ عہدیدار نہیں بلکہ وہ ذمہ دار ہیں انہیں نہ صرف خود دین کی سر بلندی کے لئے جد و جہد کرنی ہے بلکہ دوسرے داعیان حق کی بھی راہنمائی کرنی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up