یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچے عموما ًدین کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتے ہیں انہیں ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ان کی مناسب تربیت اور حوصلہ افزائی کے لئے تنظیم میں بچوں کا ایک الگ شعبہ قائم کیا جائے، اس سے بچوں میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوگی اور یہی بچے کل کو بہترین کارکن ثابت ہونگے۔ تربیتی اجتماعات کے بارے میں چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے؛
۱۔ پروگرام مختصر اور جامع ہونا چاہیے، عام ہفتہ وار اجتماع کا دورانیہ ایک گھنٹہ سے زائد نہ ہو۔
۲۔ وقت کی پابندی نہایت ضروری ہے خواہ لوگ کم ہوں یا زائد، پروگرام وقت پر شروع کردینا چاہیے۔
۳۔ تربیتی نشست میں قراءت، نعت ، حلقۂ ذکر اور درس قرآن و حدیث کے علاوہ مذاکرہ اور مباحثہ بھی رکھا جاسکتا ہے۔
۴۔ نئے ساتھیوں کی تربیت میں دو اصول بنیاد بنائے جائیں۔
اول: انہیں دعوتِ حق کی ضرورت بتا کر اس کا طریقہ و آداب سکھائیں۔
دوم:انہیں راہ خدا میں مال اور وقت دینے کی اہمیت بتا کر ان کی قربانی دینے پر آمادہ کریں۔
۵۔ نبی کریم ﷺ نے سوال و جواب کی صورت میں بھی دینی مسائل صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کو سکھائے ہیں لہٰذا تربیت کے لئے سوال و جواب کا طریقہ بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
۶۔ آقا ﷺ نے کئی مسائل اپنے عمل کے ذریعہ بھی سکھائے، تربیتی پروگرام میں نمازِ جنازہ اور میّت کے غسل و کفن کا طریقہ علامتی عملی مشق کے ذریعہ بھی نئے ساتھیوں کو سکھانا بہتر رہے گا۔
۷۔ تمام تنظیمی اور تربیتی پروگراموں میں میانہ روی کو اختیار کیا جائے کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اس کے حبیب ﷺ کو بھی۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ہر جمعرات کو وعظ فرماتے تھے کسی نے عرض کی، آپ روزانہ وعظ فرمایا کریں۔ ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ تمہیں مشکل میں ڈال دوں ۔ آقا علیہ السلام ہمیں مشکل و ملال سے بچانے کے لئے روزانہ وعظ نہ فرماتے تھے اسی لئے میں تمہارا ویسا ہی خیال رکھتا ہوں۔
۸۔ کارکنوں کو اضافی عبادات کی طرف راغب کیا جائے جیسے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا، تہجد، تحیۃ الوضو اور اشراق وغیرہ کے نوافل کرنا، روزانہ مخصوص تعداد میں استغفار اور درود شریف پڑھنا۔ یہ سب اعمال سنت سے ثابت ہیں انہیں اپنانے سے روحانیت پیدا ہوتی ہے اور ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے۔
13۔ مشاورت: تنظیم کے ذمہ دار افراد کو تمام تنظیمی امور اپنے ساتھیوں کے مشورے سے طے کرنا چاہئیں۔ اس سے دوسرے ساتھیوں کو اپنی اہمیت اور تنظیمی امور میں شرکت کا احساس ہوتا ہے، ان کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے،آپ کے لئے ان کے دل میں احترام وسیع ہوجاتا ہے اور ذمہ داری باہم تقسیم ہوجاتی ہے نیز مشورہ کرنے سے اس معاملہ کے مختلف پہلو نکھر کر سامنے آتے ہیں۔
نبیِ کریم ﷺ کو رب تعالیٰ نے اپنے خاص صحابَۂ کرام سے مشورہ کرنے کی تاکید فرمائی۔
ارشاد ہوا،
’’ کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللّٰہ پر بھروسہ کرو “۔
معلوم ہوا کہ مشورہ کرنا آقا ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ قرآنِ حکیم نے یہ بھی بتایا ہے کہ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کے معاملات بھی باہم مشوروں سے طے ہوتے تھے۔(الشوریٰ)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ:
جو قوم مشورہ کرتی ہے وہی صحیح راہ پر پہنچتی ہے۔
مشاورت کے دوران اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ کسی ساتھی کی حوصلہ شکنی نہ ہوبلکہ سب کی تجاویز توجہ سے سنی جائیں ۔اگر کسی کی تجویز ومشورہ کو آپ سنتے ہی مسترد کر دیں گے اس سے نہ صرف اس کی دل شکنی ہوگی بلکہ ممکن ہے کہ وہ آئندہ کے لئے مشورے سے ہی گریز کرے۔ اس طرح اس کی فکری صلاحیت سے آپ استفادہ نہ کر پائیں گے۔ ایک ذمہ دار کارکن کو چاہئے کہ وہ ہر کارکن کی تجاویز غور سے سنے اگر وہ تجاویز ناقابلِ عمل ہوں تو بھی اس کی تجاویز کے اچھے پہلوؤں کی تعریف کرے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سمجھائے کہ اس کی تجاویز کے کون سے پہلو کن وجوہ کی بنا پر قابلِ عمل نہیں۔

