’’عاجزی کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب تم حق بات کو تسلیم کرلو خواہ وہ بات کوئی بچہ کہے یا جاہل شخص“۔
’’اہلِ کرم جب تقویٰ اختیا ر کرتے ہیں تو عاجز بن جاتے ہیں اور کوئی چھوٹا آدمی جب نیک بنتا ہے تو متکبر ومغرور ہوجاتا ہے“۔
’’جب تک تو کسی ایک مسلمان کو بھی اپنے سے کمتر سمجھتا ہے تو تُو متکبر ہے‘‘۔ (کیمیائے سعادت)
12۔ تربیتی اجتماعات: داعیانِ حق کو اپنے ساتھیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہنا چاہیے اس مقصد کے لئے ہفتہ وار درس کی محافل، ذکر و نعت کی مجالس اور روز مرہ کے رابطے کے علاوہ خصوصی تربیتی نشستیں اور تربیتی تفریحی پروگرام بھی منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ درس کی محافل سے ساتھیوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے، ذکر و نعت کی محفلوں سے مردہ دلوں میں روحانیت پیدا ہوتی ہے، روزانہ رابطے سے دینی تنظیم سے تعلق کا احساس پختہ ہوتا ہے اور خصوصی نشستوں کے ذریعے افکار و اعمال کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے میں مدد ملتی ہے۔
کارکنوں کی تربیت کرنے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہے کہ بنیادی دینی تعلیمات پر مشتمل ایک نصاب تیار کیا جائے جسے ہفتہ وار درس کے ذریعے بیان کیا جائے، اور ہر تین ماہ بعد اور آخر میں سال کے بعد کارکنوں کا امتحان لیا جائے۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نصابی کتب کی فہرست کارکنوں کو دی جائے اور متعلقہ عنوانات بتا دیے جائیں تاکہ وہ لائبریری سے کتب لے کر مطالعہ کریں اور پھر امتحان دیں ۔ امتحان زبانی اور تحریری دونوں طرح لیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کارکنوں کے علم میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور وہ تنظیم میں شمولیت کو اپنے لئے فائدہ مند جانیں گے نیز ایسے اہل علم کارکن دوسرے لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرسکیں گے اور لادینیت اور بد مذہبیت کے خلاف مضبوط دیوار ثابت ہوں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے ہر شخص کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے اب یہ اس کا کا م ہے کہ وہ اپنی کونسی صلاحیتیں اجاگر کرتا ہے۔ بعض ساتھی اپنے افکار کو لفظوں کا روپ دینے میں کمال رکھتے ہیں ایسے کارکنوں کو تقریر کی تیاری کرائی جائے تاکہ وہ آپ کی راہنمائی اور اپنی تھوڑی سی کوشش سے اچھے مقرر بن سکیں۔ بعض ساتھی تقریر سے زیادہ تحریر سے دلچسپی رکھتے ہیں انہیں مضامین لکھنے کی تربیت دی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اسی طرح بعض دوست انتظامی معاملات چلانے میں قدرتی طور پر زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں ۔ لائبریری و دفتر کا نظم و نسق، عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلسہ وجلوس کے انتظامات اور دیگر پروگراموں کے انعقاد میں انہیں ذمہ دار بنا کر ان کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح بعض ساتھی خوش الحان ہوتے ہیں انہیں نعت خوانی کی تربیت دی جانی چاہیے تا کہ تنظیم کے پاس اپنے نعت خواں ہوں جو حسبِ موقع سرکارِ دو عالم ﷺ کی مدحت سرائی سے دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمع مزید فروزاں کرتے رہیں۔ چونکہ تربیت میں ماحول کا بہت اثر ہوتا ہے اس لئے شمع رسالت کے پروانوں کا آپس میں ملنا جلنا دینی ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے البتہ بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب کم محنت سے زیادہ بہتر نتائج پیدا کرنا آسان ہوتا ہے۔
جیسے ماہ رمضان یا شب براء ت وغیرہ نیز اسی طرح ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کو بھی تربیت کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ایام میں لوگوں کے سامنے ایسا جامع اور اثر انگیز پروگرام پیش کیا جائے جس کے اثرات سے فیضیاب ہوکر وہ ایک ذمہ دار مومن کی سوچ اپنالیں اور پھر سارا سال دوسروں تک دعوت حق پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیں۔

