Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 39 of 50

محض گفتگو میں اپنے آپ کو بہت حقیر و فقیر کہنا، نمائشی طور پر رفتار و انداز میں عاجزی دکھانابہت آسان ہے لیکن راہ حق میں عملی جدوجہد کرنا، اپنے آرام کو قربان کرنا،اچھے برے لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کو برداشت کرنا، اپنی کوتاہیوں کو سننااور رضائے الٰہیٰ کے لئے اپنی غلطیاں مان لینا انتہائی مشکل کام ہیں نیز لوگوں سے الگ تھلگ رہنے والا داعی دعوتِ حق کا فریضہ کماحقہ ہرگز انجام نہیں دے سکتا۔

اس سلسلے میں بھی آقاومولیٰ کا اسوۂ حسنہ مشعلِ راہ بنایئے کہ ان جیسا عظیم داعی،ان جیسا مشفق مبلغ اور ان جیسا عابد و عالم نہ کوئی ہوا اور نہ قیامت تک کوئی ہوگا۔

’’حضور جو وقت اپنے گھر میں گزارتے اسے تین حصوں میں تقسیم فرماتے،ایک حصہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے، ایک اہلِ خانہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے صحابَۂ کرام کے لئے مخصوص فرماتے اور ان کی دینی فضیلت کے لحاظ سے ان پروقت تقسیم فرماتے۔ آپ انہیں ان کی اصلاح سے متعلق کاموں میں مشغول فرماتے اور ضروری ہدایات فرماتے۔ نبیِ کریم کا جو وقت گھر سے باہر گزرتا اس میں آپ لوگوں کو عذاب سے ڈراتے اور حق کی دعوت دیتے، اپنے صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کی خبر گیری کرتے اور ان سے لوگوں کے حالات بھی دریافت فرماتے۔ آپ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ آپ کے صحابَۂ کرام دعوت یا دین کے کاموں میں غافل یا سست نہ ہو جائیں“۔

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام سے ملاقاتیں کرنا، انہیں اصلاح کے لئے ہدایات دینا ، ان کی خبر گیری فرمانا اور ان کے دعوتی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا آقا و مولیٰ  کا معمول تھا گویا مذکورہ امور انجام دینے کے لئے خلوت نشینی سے گریز بہت ضروری ہے۔ ایک دن صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کسی شخص کی بہت تعریف کررہے تھے کہ اسی وقت وہ شخص بھی آگیا۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یارسول اللّٰہ یہی وہ شخص ہے جس کی ہم ابھی تعریف کررہے تھے۔

آپ نے فرمایا، مجھے تو اس میں منافقت کی علامت دکھائی دے رہی ہے۔ سب کو تعجب ہوا۔

آپ نے فرمایا، اے شخص تجھے خدا کی قسم ! سچ بتا کیا تو خیال نہیں کرتا کہ تو اس قوم کا بہترین شخص ہے ؟ اس نے کہا ہا ں مجھے اکثرخیال آتا ہے۔ آقا  نے اس برے خیال کو منافقت سے تعبیر فرمایا۔

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ:

’’ اپنے آپ کو بزرگ و برتر سمجھنا علم کی بڑی آفت ہے“۔ کیونکہ حقیقی علم تو خوف خدا اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ (کیمیائے سعادت)

امام غزالی نے متکبر کی ایک علامت بیان کی ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے ساتھ چلنے والا نہ ہو تو وہ کہیں جانا پسند نہیں کرتا گویا وہ اکیلے چلنا توہین سمجھتا ہے اور ایک علامت یہ بھی بتائی ہے کہ وہ کسی سے ملاقات کے لئے نہیں جاتا یعنی وہ اپنی خود پسندی کے باعث لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتا ہے۔

حدیث پاک میں متکبر کی ایک علامت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنی تعظیم کئے جانے کو پسند کرتا ہے۔

ارشاد ہوا،

’’ جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے“۔

یہ بھی فرمایا گیا،

’’جب تم کسی عاجز کو دیکھو تو عاجزی کرو اور جب متکبر سے ملو تو تکبر سے پیش آؤ تا کہ اس کا غرور ختم ہوجائے“۔

اس عنوان پر اکابر اولیاء کرام کے چند ایمان افروز اقوال ملاحظہ فرمائیں:

’’ تو ابتدا میں گندے پانی کا ایک ناپاک قطرہ تھا اور تیرا انجام یہ ہوگا کہ ناپاک مردار ہوجائے گا اور اس وقت تو ان دونوں حالتوں میں اپنے پیٹ میں غلاظت کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up