اس تمثیل سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں۔
1۔آپ دوست کے عیب اس وقت واضح کریں جب آپ محسوس کریں کہ وہ تنقید قبول کر کے اپنی اصلاح کرلے گا کیونکہ آئینہ اسی وقت آپ کے عیب ظاہر کرتا ہے جب آپ اس ارادے سے اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
2۔کسی کی غیر موجودگی میں اس پر تنقید نہ کریں کیونکہ آئینہ اسی کا چہرہ دکھاتا ہے جو سامنے ہو۔
3۔دوست کی خامیاں کمی بیشی کے بغیر بیان کریں کیونکہ آئینہ ظاہری عیبوں کو بغیر کم یا زیادہ کئے دکھاتا ہے۔
4۔بغیر کسی غرض اور بغض وکینہ کے تنقید کریں کیونکہ آئینہ بغیر غرض کے تصویر دکھاتا ہے اور کینہ بھی نہیں رکھتا۔
5۔ تنقید صرف اس لئے ہو کہ وہ اپنے آپ کو سنوار لے جس طرح آئینہ دیکھ کر ہم اپنے آپ کو سنوارلیتے ہیں۔
6۔آئینہ جب تک خود صحیح بنا ہوا نہ ہو اس میں تصویر صحیح دکھائی نہیں دیتی، اس طرح گرد آلود آئینہ بھی تصویر کو دھندلادیتا ہے پس آپ کو خود بھی عیبوں سے پاک و صاف رہنا چاہیے۔
7۔آئینے میں اپنے عیب دیکھ کر کوئی بھی اسے توڑنے کی حماقت نہیں کرتا اسی طرح جب آپ کا دوست لفظوں کے آئینے میں آپ کی تصویر دکھائے تو دوستی کے رشتے پر آنچ نہ آنے دیں بلکہ اپنے دوست کا شکریہ ادا کریں اور آئندہ کے لئے بھی اس سے اصلاح کی درخواست کریں۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے تھے،
’’اللّٰہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو مجھ کو میرے عیبوں سے مطلع کرے“۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر آپ کسی کے بارے میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپ کی نصیحت قبول کرنے اور اپنے عیوب دور کرنے پر آمادہ نہ ہوگا تو اس صورت میں آپ اس کے والد، بھائی ، استاد یا کسی اور سینئر ساتھی سے حکمت بھرے انداز میں اس کی اصلاح کے بارے میں راہنمائی لے سکتے ہیں۔ کسی کی اصلاح کابہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں آپ اس سے دوستی کا اظہار کیجیے۔
آقا علیہ السلام کا ارشاد ہے،
’’جب کوئی شخص اپنے دینی بھائی سے محبت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے بھی ان جذبات سے آگاہ کردے اور اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“۔
اس کا نفسیاتی اثر یہ ہوگا کہ وہ آپ کی محبت و دوستی کو محسوس کرے گا اور رفتہ رفتہ یہ باہمی تعلق دلی قرب میں بدل جائے گا، پھر دوسرے مرحلے میں اس محبت کو مضبوط کرنے کے لئے ہدیے اور تحائف دیجیے کہ،
حدیث پاک میں ارشاد ہوا ،
’’ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجا کرو اس سے محبت پیدا ہوگی اور دلوں کی دوری ختم ہوجائے گی“۔
دوست کے ہدیے کو کبھی حقیر نہ سمجھئے اصل چیز قیمت نہیں، خلوص ہوتا ہے ہدیہ کا بدلہ ہدیہ ہوتا ہے۔ آقا ﷺ کا پسندیدہ ہدیہ خوشبو تھی۔ فی زمانہ علمِ دین کی اشاعت کے حوالے سے اچھی کتاب کا تحفہ زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے کہ اس سے تبلیغ دین ہوتی ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ ، گیارہویں شریف اور ان مقدس ایام کے علاوہ بھی کبھی کبھار دینی احباب کے ساتھ مل کر کھانے پینے کا اہتمام کیجئے۔ ایسے موقع پر بے تکلفی کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے۔ جب دوستی کا تعلق مضبوط ہوجائے اس کے بعد تنقید و اصلاح کا کام بہت آسان ہوسکتا ہے۔
11۔ خود پسندی سے پرہیز: بعض داعیانِ حق یا تنظیم کے عہدیداران اپنی ذات کے گرد ایک خول چڑھا کر خلوت پسند ہوجاتے ہیں وہ اپنی نششت و برخاست بعض مخصوص افراد تک محدود کرکے عام لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں، اس طرح دینی جدوجہد کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایسی خلوت نشینی کا سبب اکثر خودپسندی ہوتا ہے جسے اولیاء کرام تکبر کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔ آقا ومولیٰ ﷺ نے ہلاک کرنے والی چیزوں کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ:
’’ان میں سب سے زیادہ خطرناک بات انسان کا اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا جاننا ہے“۔

