Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 37 of 50

آقا کا ارشاد ہے کہ اللّٰہ نے فرمایا:

’’ میری محبت، میرے لئے محبت کرنے والوں، میرے لئے بیٹھنے والوں ، میرے لئے ملاقات کرنے والوں اور میرے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لئے لازم ہوگئی۔‘‘

ملاقات کی ایک خاص صورت جسے مسلما ن کا حق قرار دیا گیا ہے، یہ ہے کہ اپنے بھائی کی عیادت کی جائے۔

اس کے اجر و ثواب کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ،

’’جو کسی مسلما ن کی عیادت صبح کو کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں میووں کے باغات ہیں“۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تنظیم کے ہر ساتھی کو دوسرے دینی بھائیوں سے زیادہ سے زیادہ ملاقاتیں کرنی چاہئیں۔ اس کا اجر یہ ملے گا کہ وہ ستر ہزار فرشتوں کی دعائے مغفرت اور اللّٰہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق ہوجائے گا اور اگر یہ ملاقاتیں دینی فکر پر مبنی ہوئیں تو دین سیکھنے سکھانے کا بھی ثواب ملے گا اور اس سے دین سے تعلق مزید مضبوط ہوگا کیونکہ راہ حق پر گامزن رہنے کے لئے نیکوں کی صحبت اور یادِ الٰہیٰ بہت ضروری ہیں اور اس ملاقات میں دونوں چیزیں حاصل ہوتی ہیں ۔ ملاقات کے آداب میں چند باتوں کا خیا ل رکھنا ضروری ہے۔

مسلمان بھائی کو سلام کیا جائے، اس سے محبت بڑھتی ہے۔

دونوں ہاتھوں سے گرم جوشی سے مصافحہ کیا جائے، اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

اسے اچھے نام سے پکارے، اس سے دوستی مضبوط ہوتی ہے۔

اس سے ذاتی حالات پوچھے اور ان میں دلچسپی لے، اس سے محبت پختہ ہوتی ہے۔

اس کے اچھے کاموں کی تعریف کرے تاکہ حوصلہ افزائی ہو اور اس کے تعاون کرنے یا ہدیہ دینے پر خلوص سے شکریہ ادا کرے۔

ملاقات کے دوران دینی امور کے علاوہ دنیاوی کاموں کے بارے میں گفتگو کرے نیز ہلکا پھلکا مذاق بھی کرلے مگر گناہ کی باتوں سے مکمل اجتناب کرے۔

الادب المفرد میں ہے کہ:’’صحابَۂ کرام علیہم الرضوان ہنسی اور تفریح کے طور پر ایک دوسرے کی طرف تربوز کے چھلکے پھینکا کرتے لیکن جب لڑنے کا وقت آتا تو یہی میدان جنگ کے شہسوار ہوتے تھے“۔

10۔ نصیحت و احتساب: اللّٰہ تعالیٰ کے لئے محبت دوستی اور ملاقات کے بارے میں پچھلے صفحات میں گفتگو ہوگئی ہے اس ضمن میں ایک اہم بات ذہن نشین رکھنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ ہر کارکن پر لازم ہے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا رہے یہ فریضہ انجام دینا حلقہء احباب میں زیادہ ضروری ہے اور نسبتاً آسان بھی کیونکہ دوستی اور محبت کے تعلق سے اپنی بات منوانی آسان ہوتی ہے۔

سورۃ العصر میں نقصان سے بچنے اور فلاح دارین کے حصول کی شرائط بیان ہوئی ہیں جس میں یہ بھی ہیں کہ مومن ایک دوسرے کو حق بات کی تاکید اور صبر کی وصیت کرتے رہیں ۔ یعنی داعیِ حق پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کو مناسب طور پر نصیحت کرکے انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرے نیز انہیں اس طرح سمجھائے کہ وہ اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو خود محسوس کریں اگرچہ یہ کام دشوار ہے کیونکہ تنقید برداشت کرنا نفس پر بہت گراں ہوتا ہے۔ لیکن خلوص ، محبت اور دلسوزی کے ساتھ کی جانے والی تنقید دل میں اتر جاتی ہے۔

حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں،

’’ جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اسے ذلیل کردیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے زینت بخش دی“۔

سرکارِ دو عالم کا ارشاد گرامی ہے،

’’ تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے پس اگر وہ اپنے بھائی میں کوئی برائی دیکھے تو اسے دور کردے“۔

Share:
keyboard_arrow_up