Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 36 of 50

اس حکایت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ جب تک آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں نیک گمان نہیں رکھیں گے اعتماد اور اتحاد قائم نہیں رہے گا۔

کتب حدیث میں یہ واقعہ موجود ہے کہ حضور فتح مکہ کے لئے تیاری کی خبر پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے مگر حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی لغزش کے باعث قریش کو خط لکھ کریہ اطلاع دینی چاہی چونکہ یہ خطا خیانت کے مترادف تھی اس لئے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی، اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑادی جائے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا ، یہ بدر والوں میں سے ایک ہے اور تمہیں معلوم نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اہلِ بدر سے فرمایا ہے کہ ’’ میں نے تمہیں معاف کردیا‘‘۔

مقامِ غور ہے کہ ایسی اہم غلطی کے باوجود نبیِ کریم  نے حضرت حاطب رضی اللّٰہ عنہ کو معاف فرمادیا کیونکہ ان کی گزشتہ زندگی اسلام کے لئے قربانیوں سے بھری پڑی تھی۔ انہوں نے غزوہ بدر میں حصہ لیا دین کی خاطر ہجرت کی اور مومنوں کے شانہ بشانہ کافروں سے برسر پیکار بھی رہے اس لئے آقا  نے ان کی اجتہادی غلطی سمجھتے ہوئے حسن ظن کرکے معاف فرمادیا۔ حضرت حاطب رضی اللّٰہ عنہ نے بھی اپنی صفائی میں یہی کہا یارسول اللّٰہ ! میرا ایمان ہے کہ فتح تو آپ ہی کو ملنی ہے خواہ قریش کو اطلاع ہو یا نہ ہو اس لئے میں نے سوچا مکہ میں میرے گھر والے موجود ہیں اگر میں قریش کو اطلاع کردوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ میرے احسان کے بدلے میں میرے گھر والوں کو نقصان نہ پہنچائیں“۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

’’اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بےشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے “۔

پس ہرکارکن پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینی بھائی کے بارے میں بدگمانی نہ کرے اور دوسرے کا بھی فرض ہے کہ وہ ہر ایسی بات سے بچے جو بدگمانی پیدا کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ اگر بالفرض کسی کے بارے میں آپ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو تو اسے فورا اپنے بھائی پر ظاہر کردیں کیونکہ بدگمانی کو دل میں رکھنا خیانت ہے اور اس سے بہت سے فتنے جنم لیتے ہیں اس لئے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ جس کے بارے میں بدگمانی ظاہر کی جائے اس کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقت کو واضح کرے تاکہ اس کے دینی بھائیوں کے دل صاف ہوجائیں ۔ نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

9۔ ملاقات ورابطہ: اخوت کا تقاضا ہے کہ اپنے دینی بھائی کی خبر گیری کی جائے اور اس سے ملاقات کا سلسلہ قائم رکھا جائے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملاقات کرتے رہنے سے محبت و دوستی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کی طرح ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے دوست مشکل میں اس کے کام آئیں اور اس کی غم وخوشی میں شریک ہوں، ایسا اسی صورت میں ممکن ہوگا جب آپ ملاقات کے ذریعے ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہیں گے۔

یہ ایک ایسی نیکی ہے کہ جس کے بارے میں آقا و مولیٰ  نے اپنے صحابی سے فرمایا:

’’تم جانتے ہو کہ جب کوئی مسلمان اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوتے ہیں جو دعا کرتے ہیں کہ الٰہی! اس نے صرف تیرے لئے اس سے تعلق جوڑا ہے تو اسے (اپنی بارگا ہ سے) جوڑ لے ، تو اگر ممکن ہو کہ تم اپنے جسم سے یہ کام لو یعنی ملاقات کرو تو ضرور ایسا کرو“۔

رحمتِ عالم  نے راہِ خدا میں ملاقات کرنے کے بارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا،

’’ ایک شخص اپنے کسی دینی بھائی سے جو کسی دوسری بستی میں تھا ، ملاقات کے لئے چلا، اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ اس کے راستے پر بھیج دیا، اس نے پوچھا، کہاں جا رہے ہو؟ جواب دیا، اپنے بھائی سے ملنے ، فرشتے نے پوچھا کیا اس کے ذمے تمہارا کوئی حق ہے جو وصول کرنے جارہے ہو؟ اس نے جواب دیا، نہیں سوائے اس کے کوئی وجہ نہیں کہ میں اس سے اللّٰہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا، مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے تیری طرف بھیجا ہے اور یہ بشارت دی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ بھی تجھ سے ایسی ہی محبت رکھتا ہے جیسی تو اس کی خاطر اپنے دوست سے رکھتا ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up