رحمتِ عالم ﷺ کا ارشاد ہے،
’’بہادر وہ نہیں جو پہلوان ہو اور دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے“۔
ایک اور حدیث میں ارشاد ہو ا،
’’ہر سخت دل ، بدکردار اور متکبر آگ میں ڈالا جائے گا‘‘۔
سخت مزاج والے کو لوگ پسند نہیں کرتے جبکہ نرم مزاج اور خوش اخلاق کارکن بہت جلد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ۔ آقا ﷺ ہمیشہ نرمی کا طریقہ اختیار فرماتے البتہ جب کبھی اصلاح و تربیت کے لئے سختی فرماتے تو اس میں بھی محبت و شفقت کے جذبات جھلکتے نظر آتے ۔
آپ ﷺکا فرمان ہے،
’’کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتا دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہے، یہ وہ شخص ہے جو نرم طبیعت ہو ، نرم زبان ہو ، لوگوں سے قریب ہو اور درگزر کرنے والا ہو“۔
اگر ساتھیوں میں کسی بات پر اختلاف ہوجائے تو صلح صفائی کرنے میں ہرگز دیر نہ کیجیے بلکہ اپنے قصور کا اعتراف کرنے اور معذرت کرنے میں پیش قدمی کیجیے اسی طرح جب کوئی آپ سے معذرت چاہے تو اس کا عذر قبول کرکے اس کی طرف سے دل صاف کرلیجیے۔
حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا،
”جس نے کسی مسلمان بھائی سے اپنے قصور کا عذر کیا اور اس نے اس کا عذر قبول نہ کیا اس کو اتنا گنا ہ ہوگا جتنا ایک ناجائز محصول وصول کرنے والے پر اس کے ظلم کا گناہ ہوتا ہے“۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا ﷺ نے فرمایا،
’’مجھے میرے رب نے نو (9)باتوں کا حکم دیا ان میں سے یہ بھی ہیں کہ ، میں اس سے تعلق جوڑوں جو مجھ سے تعلق توڑے اور اسے دوں جو مجھے محروم کرے اور اس کو معاف کروں جو مجھ پر ظلم کرے“۔
8۔ باہم اعتماد واتفاق : تنظیم سے وابستہ کارکنوں کے درمیان اخوت و محبت، ایثار و قربانی اور خیر خواہی کے حوالے سے کافی گفتگو ہوچکی ہے، اس کا نچوڑ یہی ہے کہ ایک کارکن اسلامی معاشرے اور دینی تنظیم کا ایسا مثالی فرد بن جائے کہ دوسرے مسلمان اس پر مکمل اعتماد کرنے لگیں اور اس کے ہاتھ و زبان سے کسی مسلمان کو خطرہ نہ ہو۔
قرآن کریم نے مومنوں کے اس مضبوط تعلق کے اظہار کے لئے
’’ ولی ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے محبت کرنے والا، مددگار ، دوست ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا :
’’تمہارے دوست نہیں مگر اللّٰہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللّٰہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بے شک اللّٰہ ہی کا گروہ غالب ہے“۔
نورِ مجسم ﷺ کا ارشاد ہے،
”مومن مومن کے لئے ایک عمارت کی طرح ہیں جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے پھر آقا علیہ السلام نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر جال بنا کر دکھایا ( یعنی اس طرح مومنوں کے باہمی تعلق کا مضبوط ہونا واضح فرمایا)“۔
مشہور مقولہ ہے کہ اتحاد میں برکت ہے اور کارکنوں میں باہمی اتحاد واتفاق باہمی اعتماد اور حسن ظن ہی سے قائم رہ سکتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ:
” اچھا گمان اچھی عبادت ہے۔“
مثنوی شریف میں مولانا روم اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:
سات بیلوں میں مثالی اتحاد تھا جس کے باعث شیر انہیں شکار نہ کرسکتا تھا شیر نے لومڑی سے کہا کہ اگر کسی طرح تم انہیں جدا جدا کردو تو میرا کام آسان ہوجائے گا۔ لومڑی نے ایک مکارانہ چال چلی اس نے ایک بیل کے کان میں آکر یونہی منہ ہلایا جیسے کچھ کہہ رہی ہو پھر وہ چلی گئی۔ باقی بیلوں نے اس سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا؟ اس نے جواب دیا، کچھ بھی نہ کہا۔ ان بیلوں کے دل میں بدگمانی پیدا ہوگئی کہ جو اس نے کہا یہ بتانا نہیں چاہتا۔ پھر انہوں نے اس بیل کو اپنی دوستی سے خارج کردیا۔ شیر نے باآسانی شکار کرلیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد لومڑی نے دوسرے بیل کے ساتھ بھی یہی کام کیا اور وہ بھی دوستی سے نکال دیا گیا اور شیر کا لقمہ بن گیا اس طرح لومڑی کی مکاری سے وہ سب بیل لقمۂ اجل بن گئے۔

