کسی بھی تنظیم کی مضبوطی کے لئے اشد ضروری ہے کہ اس کے کارکن ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا خیال رکھیں، ایک دوسرے کی دل آزاری نہ کریں،مذاق نہ اڑائیں،غیبت اور عیب جوئی نہ کریں،بدگمانی نہ کریں، نہ تو کسی کو حقیر جانیں اور نہ ہی کسی سے حسد کریں۔
مذکورہ تمام ہلاک کرنے والے گناہوں کے بارے میں آقا علیہ السلام کے ارشادات مبارکہ سے راہنمائی حاصل کرنے کے لئے فقیر کی کتاب’’ضیاء الحدیث‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک اسلام کے بتائے ہوئے ان سنہری اصولوں پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ تنظیم کا وجود باقی نہیں رہ سکتا۔ نبیِ کریم ﷺ اپنے صحابَۂ کرام کی تربیت میں ان امور کا کس قدر لحاظ فرماتے تھے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایئے:
کہ ایک مرتبہ آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ سفر میں تھے رات کو ایک جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا۔ ایک شخص نے دوسرے کی رسی اٹھا لی اور اسے پریشان کیا، آپ نے فرمایا، کسی مسلمان کو یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو مذاق میں بھی پریشان کرے۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا،
’’کہ تم میں سے اچھا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید کی جائے اور اس کے شر سے لوگ امن میں ہوں اور تم میں سے برا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید نہ کی جائے اور اس کے شر سے لوگ محفوظ نہ ہوں“۔
داعیانِ حق کے باہم تعلقات کے حوالے سے رحمتِ عالمﷺ کا یہ فرمان ذہن نشین رہنا چاہئے۔
ارشاد ہوا،
’’کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان کو عداوتاً چھوڑے رکھے اگر تین دن گزر جائیں تو اس کو چاہئے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو مصالحت کے ثواب میں دونوں شریک ہونگے اور اگر وہ سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گناہ گار ہوگا اور سلام کرنے والا ترکِ تعلقات کے گناہ سے بری ہوجاکئے گا“۔
7۔نرمی و در گذر: نرمی اور عفو و درگذر حضور ﷺ کے تربیتی طریقہ کار کا اہم ترین رکن ہے۔ اگر آپ اپنی دعوت منوانے کے لئے شدت و سختی کا رویہ اپناتے تو شمع رسالت کے پروانوں کا جھرمٹ وسیع سے وسیع تر ہونے کی بجائے کم سے کم ہوتا جاتا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
’’ تو کیسی کچھ اللّٰہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو “۔
سورۃالفتح آیت ۲۲ میں صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کے اوصاف یوں بیان فرمائے گئے کہ،
’’وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل“۔
سورۂ آلِ عمران میں پرہیزگار وں کی تعریف میں فرمایا گیاکہ وہ:
’’ غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے (ہیں)۔“
رب تعالیٰ نے آقا ﷺ کو یہ تاکید فرمائی:
’’اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو (تابع)مسلمانوں کے لیے “۔
نرمی اور بردباری کے بارے میں حضور ﷺکا ارشاد ہے:
”مومن بردبار اور نرم ہوتے ہیں جیسے اونٹ جس کی ناک میں نکیل پڑی ہو، اگر اسے کھینچا جائے تو کھنچتا چلا جائے اور بٹھایا جائے تو وہ بیٹھ جائے“۔
ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہوتو فولاد ہے مومن جب مختلف مزاج اور باصلاحیت دماغ والے افراد کا ایک جگہ جمع ہونے، تبادلۂ خیال کرنے اور کسی مقصد کے حصول کے لئے جد وجہد کرنے کا تعلق قائم ہوتا ہے تو کسی سے ایسی باتیں بھی سرزد ہوجاتی ہیں جو دوسروں کے لئے ناگوار اور ناپسند ہوتی ہیں بعض اوقات ان پر شدید غصہ بھی آجاتا ہے اس وقت دینی بھائیوں میں اخوت و محبت کے تعلق کی ٹھنڈک کو غصہ اور نا اتفاقی کی گرمی پر ضرور غالب آجانا چاہیے۔ ایسی صورت میں اچھی بات تو یہ ہوگی کہ ہر شخص وسیع القلبی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی خطا کو درگذر کردے بصورتِ دیگر اپنا معاملہ تنظیم کے امیر کے پاس پیش کردیں تاکہ نظم وضبط برباد نہ ہو۔

