Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 33 of 50

خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اگرکسی دینی ساتھی کو مالی مدد کی ضرورت ہو یا کوئی اور حاجت ہو تو اس کا مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔

فرمانِ نبوی ہے:

’’ اللّٰہ اپنے بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے“۔

ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا،

’’کسی مسلمان کی حاجت پوری کرنے کا اجر و ثواب دس سال کے اعتکاف سے بھی زیادہ ہے۔“

آقا کا ایک اور ارشادِ گرامی ہے،

’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے رسوا کرتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرمائے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللّٰہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا“۔

اگر کسی دینی ساتھی کی غیبت وعیب جوئی کی جارہی ہو تو اسے روک دینا بھی خیر خواہی ہے۔

حضور نے فرمایا۔

’’جو کسی بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی نہ ہونے دے (یا اس کا جواب دے) تو اللّٰہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اسے دوزخ کی آگ سے آزاد کردے“۔

ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد ہے:

’’جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو پھر وہ اپنے بھائی کی مدد کرے (غیبت نہ ہونے دے) تو اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا لیکن اگر قدرت کے باوجود وہ اس کی مدد نہ کرے تو اس جرم پر اللّٰہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں پکڑ لے گا“۔

مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے بارے میں نبیِ کریم اپنے صحابَۂ کرام کو خاص طور پر نصیحت کیا کرتے تھے۔

آپ کا فرمانِ ذیشان ہے۔

’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، ۱۔جب اس سے ملو تو سلام کرو،۲۔جب وہ دعوت دے قبول کرو،۳۔جب تم سے خیر خواہی چاہے تو خیر خواہی کرو،۴۔جب چھینکے اور الحمد للّٰہ کہے تو جواب دو،۵۔جب بیمار ہو تو عیادت کرو ۶۔اور جب اس کا انتقال ہو تو جنازے میں جاؤ“۔آقا کا یہ ارشاد مبارک بھی اپنا راہنما بنایئے۔

ارشاد ہوا،

” جس نے میرے کسی امتی کی (جائز) حاجت پوری کی اس کی خوشی کے لئے تو اس نے مجھے خوش کیا، اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللّٰہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللّٰہ تعالیٰ کو خوش کیا اللّٰہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا“۔

6۔ باہمی تعلقات: تنظیم سے وابستہ افراد کو ایک جسم کی مثل ہونا چاہئے۔ کارکنوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے رحمتِ عالم کے اس فرمان عالیشان کو پیشِ نظر رکھئے۔

ارشاد ہوا۔

’’تم مومنوں کو رحم دلی،باہم محبت اور ایک دوسرے کی تکلیف کے احساس میں ایک جسم کی طرح پاؤگے کہ جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں“۔

یعنی جس طرح جسم کا ایک عضو بیمار ہو تو سارے اعضاء اس کی تکلیف میں بے قرار ہوجاتے ہیں اسی طرح جب کوئی مسلمان بھائی تکلیف میں ہو تو اس کے ساتھیوں کو چاہئے کہ وہ اس کی تکلیف اور پریشانی کو محسوس کریں اور اسے دور کرنے کی پوری کوشش کریں۔ مومنوں کے باہمی تعلقات کو آقائے دو جہاں ﷺ        نے ایک اور مثال میں یوں بیان فرمایا،

’’سارے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں کہ اگر اس کی آنکھ دکھے تو سارا جسم بیمار ہو جائے اور اس کے سر میں درد ہو تو بھی سارا جسم بیمار ہو جائے“۔

غور فرمایئے! جب عام مسلمانوں کی مثال ایک جسم سے دی گئی اور انہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والا فرمایا گیا تو جو غلبۂ حق اور دعوت الیٰ اللّٰہ کا فریضہ انجام دینے کے لئے ایک تنظیم کا جزو بن گئے ہوں اور انہوں نے راہ حق میں جدوجہد کرنے کا عہد بھی کیا ہو، ان کا باہمی تعلق تو یقیناً زیادہ مضبوط و مستحکم ہونا چاہئے اور پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے کا احترام نہ کریں،ایک دوسرے کی غیبت،چغلی اور عیب جوئی کریں اور باہم لڑنے جھگڑنے میں مصروف رہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up