Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 32 of 50

رضائے الٰہی اور دین کی سر بلندی کے لئے آپ کو باہم ایثار کرنا چاہیے اور قربانی دینی چاہیے خواہ مال کی ہو یا وقت کی، کیونکہ کوئی تنظیم بھی ان دونوں قربانیوں کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتی۔

قرآن حکیم نے مومنوں کی یہ صفت بار بار بیان کی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

سورۂ بقرہ، آیت ۲۴۵ میں ارشاد ہوا،

’’ہے کوئی جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے تو اللّٰہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے“۔

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کے لئے رزق میں وسعت کا وعدہ فرمایا ہے۔

آقا کا ارشاد ہےکہ :اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے،

”اے ابنِ آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے عطا کروں گا“۔

ایک حدیث ِپاک میں یہ بھی فرمایا گیا۔

’’بندہ کہتا ہے ، میرا مال میرا مال حالانکہ اس کے مال صرف تین ہیں، جو کھا کر ختم کر دے یا جو پہن کر گلا دے یا وہ جو خدا کی راہ میں خرچ کرے اور آخرت کے لئے جمع کر لے، جو مال ان کے علاوہ ہے وہ بندہ دنیا سے چلا جائے گااور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ جائے گا“۔

اب آپ یہ فیصلہ کر لیجیے کہ ہر ماہ پابندی سے ایک معقول رقم راہِ خدا میں خرچ کے لئے اپنی تنظیم میں جمع کرائیں گے اور دوسروں کو بھی راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دیں گے۔ مال اور وقت سب کے لئے اہم ہوتا ہے اور قیمتی بھی اور راہ حق میں ان دونوں کی قربانی درکار ہوتی ہے۔

اس لئے ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،

’’تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اورتم جو کچھ خرچ کرو اللّٰہ کو معلوم ہے“۔

راہِ خدا میں وقت کی قربانی کی فضیلت آقا و مولیٰ نے یوں بیان فرمائی ہے،ارشاد ہوا،

’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ دیر صبح یا شام کو نکلنا ، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ان سب سے افضل ہے“۔

دعوت حق کے کارکنوں کو صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ جان ومال اور وقت کے مسلسل ایثار سے ثابت کرنا ہے کہ وہ ایسی منافقت سے نفرت کرتے ہیں جس میں انسان صبح سے شام تک اپنے دنیاوی معاملات میں خرچ کرتا رہے تو اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی لیکن جب اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع آتا ہے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ غریب ہے، مہنگائی کی وجہ سے اس کے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا، اسی طرح بیکار گھومنے پھرنے ، دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے اور ٹی وی دیکھنے کے لئے انسان کے پاس وقت کی کمی نہ ہو مگر نماز پڑھنے، دین سیکھنے کے لئے اور اسلامی کتب پڑھنے اورسننے کے لئے وہ یہ غلط عذر پیش کرے کہ وقت بالکل نہیں ملتا آج کل بہت مصروفیت ہے۔

جاگنا ہے جاگ لے افلاک کے سائے تلے

حشر تک سونا پڑے گا خاک کے سائے تلے

5۔ خیر خواہی: حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

”دین سراسر خیرخواہی ہے۔ہم نے عرض کی،کس کی خیر خواہی؟ فرمایا، اللّٰہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے ذمہ داروں کی اور عام انسانوں کی“۔(مسلم)

خیر خواہی کا ایک مفہوم مخلصانہ وفاداری کرنا بھی ہے اور ایک مفہوم بھلائی چاہنا بھی۔ تنظیمی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی خیرخواہی کریں اور سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ وہ ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے کوشاں رہیں۔ خیر خواہی کا معیار حدیث شریف میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو کیونکہ کوئی بھی اپنا برا نہیں چاہتا،

آقا کا ارشاد ہے،

’’تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up