Dawat o Tanzeem - Unicode Book

Author: Hazrat Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 50

Page 31 of 50

آپ تنظیم کے کارکنوں کے ساتھ صرف اللّٰہ تعالیٰ اور آقا و مولیٰ کے لئے محبت کیجیے، آپ اللّٰہ عزوجل اور آقا و مولیٰ  کے محبوب بن جائیں گے۔

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے،

’’ میری محبت ان لوگوں کے لئے لازم ہو گئی جو میرے لئے محبت کرتے ہیں اور میرے لئے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں اور میرے لئے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور میرے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں“۔

اگر ایک غلام کو اپنے آقا کی محبت نصیب ہو جائے تو اس کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے؟

اللّٰہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھنے والوں کو قیامت کے دن رحمتِ الٰہی کا سایہ بھی نصیب ہوگا۔

نبیِ کریم کا ارشاد ہے۔

’’رب تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا، ”کہاں ہیں میری عظمت کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے! آج میں انہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دوں گا جبکہ اس کے سوا اور کوئی سایہ نہیں“۔

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا،

’’ ان کے چہرے نور ہونگے اور وہ نور کے منبر پر ہونگے ، جب لوگ ڈریں گے یہ نہ ڈریں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو یہ غمگین نہ ہونگے“۔

پھر ایک آیت تلاوت فرمائی، (جس کا ترجمہ یہ ہے)

’سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم “۔

امام غزالی علیہ الرحمہ نے حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ کا یہ قول تحریر فرمایا ہے کہ

’’جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں محبت کرنے والے ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں تو ان کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے خزاں میں درخت کے پتے سوکھ کر گر جاتے ہیں“۔

4۔ ایثارو قربانی: جب تنظیم سے وابستہ فرد کسی دوسرے کو اپنی ذات پر ترجیح دے کر اپنی ضرورت کی چیز اسے دے دیتا ہے تو یہ جذبہ ایثار کہلاتا ہے۔ کسی تنظیم کے کارکنوں میں اس وصف کا پایا جانا ان کے کمال ایمان کی دلیل ہے۔ مدینہ طیبہ میں ہجرت کے بعد انصار نے اپنی مالی تنگی کے باوجود دل کھول کر مہاجر بھائیوں کی مدد کی، انہیں اپنی زمینوں اور باغوں میں حصہ دار بنا دیا، تاریخ میں ایسے ایثارکی کوئی مثال نہیں ملتی۔ قرآن کریم نے ان کے اس جذبے کی تعریف فرمائی ہے،

ارشاد ہوا،

’’اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اُنہیں شدید محتاجی ہو “۔

اس کی تفسیر میں یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ ایک صحابی کسی مہمان کو اپنے گھر لے گئے، کھانا بہت کم ہونے کی وجہ سے ان کی اہلیہ نے بچوں کو بھوکا سلا دیا پھر چراغ کو درست کرنے کے بہانے بجھا دیا اور پھر وہ اندھیرے میں یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں اس طرح مہمان نے کھانا کھا لیا۔ اللّٰہ نے ان کے ایثار کی تعریف فرمائی۔

صحابَۂ کرام میں سے کسی نے اپنے دوست کے گھر بکرے کی سری بھیجی انہوں نے یہ سوچ کر کہ فلاں حاجت مند ہے اس کے گھر بھیج دی یہاں تک کہ وہ مختلف گھروں سے ہوتی ہوئی اُسی صحابی کے گھر پہنچ گئی (رضی اللہ عنہم)۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ دینی دوست پر بیس درہم فقراء پر سو درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے۔ یعنی دوستوں کے کچھ حقوق ہوتے ہیں جن میں سے سب سے اہم ایثار ہے۔ اپنے ساتھی کو بہتر چیز دینا بھی ایثار ہے۔ حضور نے ایک بار جنگل سے دو مسواکیں کاٹیں جن میں سے ایک سیدھی تھی اور ایک ٹیڑھی۔آپ نے سیدھی مسواک اپنے ساتھی کو عطا فرمائی۔ انہوں نے عرض کی، آپ سیدھی مسواک اپنے لئے رکھ لیجیے۔فرمایا، جو شخص کسی سے ایک پل بھی صحبت و رفاقت رکھتا ہے قیامت کے دن اس سے سوال ہوگا کہ صحبت کا حق ادا کیا یا نہیں؟

امام غزالی علیہ الرحمہ نے صحبت کے حق سے ایثار مراد لیا۔

(کیمیائے سعادت)

Share:
keyboard_arrow_up