حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما یہ سوچ سکتے تھے کہ چونکہ اذان کی بشارت مجھے ہوئی ہے اس لئے اذان کا حق صرف میرا ہے مگر انہوں نے اس لئے اس محرومی کو قبول کیا کہ اذان کا مقصد اعلان ہے اور بلال رضی اللہ عنہ اونچی آواز والے ہیں۔
گویا کسی تنظیم کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ کم اہلیت والے لوگ اپنے سے زیادہ اہلیت والے لوگوں کے حق میں رضائے الٰہی کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں۔ اگر تنظیم کے کارکنوں کے ذہنوں میں رضائے الٰہی کا جذبہ راسخ ہو جائے اور ان کی نیتوں میں اخلاص غلبہ پالے تو پھر کارکنوں اور عہدیداران کے مابین کسی بھی اختلاف کی صورت میں ناراضگی یا علیحدگی کا تصور ختم ہو جائے گا اور کسی سے ناراضگی کی صورت میں گروپ بندی کرنے کے بجائے کارکن صلح و صفائی کو ترجیح دیں گے نیز کسی ساتھی کی تنقید برداشت کرنے میں بھی کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔
3۔ اخوت و محبت :تنظیم سے وابستہ افراد کا باہمی تعلق اخوت و محبت کا مظہرہونا چاہیے۔
رحیم و کریم آقا ﷺ کا ارشاد ہے:
’’تم اس وقت تک مومن نہ ہوگے جب تک آپس میں محبت نہ رکھو گے“۔
مومن کی دوسرے ایمان والوں سے محبت صرف اللّٰہ عزوجل کے لئے ہوتی ہے۔ حدیث ِپاک میں اسے تکمیل ایمان کی شرط قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ گرامی ہے۔
’’جو کوئی اللّٰہ تعالیٰ کے لئے محبت کرے اور اللّٰہ تعالیٰ کے لئے دشمنی کرے، اللّٰہ تعالیٰ ہی کے لئے دے اور اللّٰہ تعالیٰ ہی کے لئے روکے اُس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا“۔ (ابو داؤد)
یہ امر حقیقت ہے کہ انسان کے دوست اور دُشمن اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لئے ایمان کی تکمیل کے لئے دوستی اور دُشمنی کی بنیاد رضا ئے الٰہی پر رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نبیِ کریم ﷺ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، ایمان کی کون سی گرہ سب سے زیادہ مضبوط ہے؟
عرض کی اللّٰہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں دوستی اور اسی کی راہ میں محبت و عداوت۔
ایک حدیث میں ارشاد ہوا۔
’’انسان اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے پس ہر کوئی یہ دیکھ لے کہ وہ کس سے محبت کرتا ہے“۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:
’’ اچھے اور برے دوست کی مثال عطر اور بھٹّی دھونکنے والے کی سی ہے۔ عطر والا تمہیں کچھ ہدیہ دے گا یا تم اس سے عطر خریدو گے یا اس کے پاس سے عطر کی خوشبو سونگھو گے جبکہ بھٹّی والا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے دھواں اور بد بو پاؤ گے“۔
ہر کسی کے کچھ نہ کچھ دوست ہوتے ہیں، اسلامی تنظیم کا مثالی رکن وہی ہوتا ہے جو رضائے الٰہی کے لئے اپنے احباب سے محبت اور دوستی رکھتا ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ:
’’مومن سراپا محبت و الفت ہوتا ہے اس شخص کے لئے کوئی خیر و خوبی نہیں جو نہ دوسروں سے محبت کرے اور نہ دوسرے اس سے محبت کریں“۔
آقا و مولیٰ ﷺ اپنے ساتھیوں سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان میں سے ہر کوئی یہ محسوس کرتا کہ آپ سب سے زیادہ اس کو چاہتے ہیں۔
آقا ﷺ کا ارشاد ہے،
اللّٰہ تعالیٰ جس شخص کی بہتری چاہتا ہے اس کو نیک دوست عطا فرماتا ہے کہ اگر یہ یادِ الٰہی سے غافل ہو تو یاد دلا دے اور اگر یہ یاد کرنے والا ہو تو وہ اس کی مزید مدد کرے“۔
اسی لئے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،
’’ہمارے دوست ہمیں ہمارے بیوی بچوں سے زیادہ عزیز ہیں کیونکہ یہ ہمیں دین کی یاد دلاتے ہیں اور بیوی بچوں کے سبب ہم دنیا میں مبتلا ہو جاتے ہیں“۔ (کیمیائے سعادت)

