2۔ رضائے الٰہی: داعی کے پیشِ نظر ہر کام میں رضائے الٰہی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ داعی نہ تو کسی عہدہ کا طالب ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے کام کو صحیح کہنے پر مصر رہتا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے ایک بھول ہوئی لیکن انہوں نے تواضع و انکساری کا عالیشان مظاہرہ فرمایا اور رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی بھول کو ظلم قرار دیتے ہوئے دعا فرمائی جب کہ ابلیس نے رب تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کیا اور پھر بھونڈی تاویلوں کے ذریعہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی بیہودہ کوشش کی۔ اس معروف واقعہ کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ بھول یا غلطی ہو جانے کی صورت میں فوراً اصلاح کر لینا اور دعاء مغفرت کرنا محبوبانِ خدا کا طریقہ ہے جبکہ بڑے بڑے جرم کرکے بھی لغو تاویلات کے ذریعہ انہیں صحیح ثابت کرنے کی احمقانہ کوشش کرنا ابلیس لعین کا طریقہ ہے۔
ایک مثالی کارکن وہی ہوتا ہے جو اپنی کسی غلطی کو انا کا مسئلہ نہ بنائے بلکہ رضائے الٰہیٰ کی خاطر ہر لمحہ وہ اپنی اصلاح کے لئے تیار رہے۔
سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے جب مہر کی رقم زیادہ کرنے پر تنبیہ فرمائی تو ایک صحابیہ نے کہا ، آپ کو یہ اختیار کس نے دیا جب کہ حضورﷺ نے اس پر قدغن نہ لگائی۔ آپ نے فرمایا، اس عورت نے صحیح بات کہی اور بیشک مرد نے خطاکی۔ آپ اس تنقید پر بالکل ناراض نہ ہوئے کیونکہ رضائے الٰہیٰ مقصود تھی۔
اسی طرح خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،
اگر میں سیدھے راستے پر چلوں تو میری اطاعت کرو اور اگر میں اس سے ہٹ کر کوئی کام کروں تو تم کیا کرو گے؟ ایک صحابی نے کہا، ہم آپ کو سیدھا کر دیں گے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے۔ آپ نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو امیر کو بھی خلافِ شرع بات پر ٹوک سکتے ہیں۔
اسلامی تنظیم کے امیر و دیگر عہد یداران میں بھی ایسا ہی جذبہ اور حوصلہ ہونا چاہئے۔ بعض اوقات کسی حکمت کے تحت جونیئر کارکن کو کوئی اہم ذمہ داری دے دی جاتی ہے اس پر سینئر ساتھیوں کو برا نہیں ماننا کچاہئے۔ آقا و مولیٰ ﷺ نے بسا اوقات کم تجربہ کار صحابَۂ کرام کو ذمہ داریاں دیں اس پر اکابر صحابَۂ کرام علیہم الرضوان نے اعتراض نہ کیا بلکہ ان کے شانہ بشانہ ساتھ دیا۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ نے عین جنگ کے موقع پر عظیم جرنیل حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ کو اسلامی فوج کی سپہ سالاری کے اعلی عہدہ سے معزول کر دیا۔ وہ نہ تو ناراض ہوئے اور نہ اسے انا کا مسئلہ بنایا اور نہ ہی کوئی بہانہ کرکے گھر بیٹھے بلکہ ایک سپاہی کی حیثیت سے جنگیں لڑتے رہے۔ ان حضرات کے لئے درخشاں مثال ہے جو کسی تنظیمی عہدے کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور اگر وہ عہدہ ان کی بجائے کسی اور کو دے دیاجائے تو وہ یا تو ناراض ہوکر گھر بیٹھ جائیں گے اور یا پھر اپنے ہم خیال لوگوں پر مشتمل ایک علیحدہ گروپ قائم کر لیں گے تاکہ ان کی نمایاں حیثیت برقرار رہے۔ یہ منفی طرزِ عمل ہے جبکہ اسلامی فکر یہ ہے کہ ہمارے پیشِ نظر عہدے نہیں بلکہ صرف اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کی رضا ہونی چاہئے۔
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہما کو خواب میں اذان کے کلمات سکھائے گئے۔
آقا ﷺ نے ان کے خواب کی تصدیق فرمائی اور ارشاد فرمایا ،
’’تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں سیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ وہ اذان دیں کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والے ہیں“۔ (ابو داؤد،ابن ماجہ)

